زراعت کو موسمیاتی تبدیلی دیگر کئی چیلنجز کا سامناہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان کے اقتصادی سروے میں زراعت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر زرعی ماہرین کو پائیدار زرعی ترقی کے لیے قابلِ عمل پالیسی تجاویز مرتب کرنا ہوں گی تاکہ اس شعبے کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے نہ صرف غذائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مستحکم معیشت کا حصول بھی ممکن بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرذوالفقار علی نے مرکز برائے اعلیٰ تعلیم کے آڈیٹوریم میں منعقدہ چار ہفتوں پر مشتمل زرعی پالیسی استعداد کار ورکشاپ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ محققین کو ایسی پالیسی سفارشات مرتب کرنا ہوں گی جن میں طلب و رسد، پائیدار مارکیٹ ڈھانچے، کاشتکار کوآپریٹو تنظیمیں اور دیگر جملہ زرعی مسائل پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ پیداوار میں اضافے اور کاشتکاروں کی معاشی حالت کو بہتر کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اقتصادی سروے کی روشنی میں پالیسی سازوں، سائنسدانوں، صنعت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو فوری توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ زراعت کو موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، کم پیداوار اور دیگر کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ زراعت کا زوال شدید بحران کو جنم دے سکتا ہے جس سے بچنے کے لیے تحقیق پر مبنی مداخلت اور ٹھوس پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کو خوراک کی فراہمی اور غربت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ انہوں نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر کمالیہ میں بھنڈی کی قیمتوں سے متعلق سوشل میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھنڈی کو فریز کر کے فروخت کیا جاتا ہے اور معمولی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے ہم اسے برآمد کر کے لاکھوں کما سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں