سائبرحملوں سے کاروباری اداروں کو شدید خطرہ

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار تیزی سے سائبر حملوں کی زد میں آرہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مناسب اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ حملے کاروباری ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں جس میں مالی خسارہ، حساس معلومات کی چوری اور کاروباری ساکھ کو دھچکا لگنا شامل ہے۔ایک معروف عالمی سائبر سکیورٹی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں جائز سافٹ ویئر کو ہیکنگ کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ سکیورٹی سسٹمز کو چکمہ دیا جا سکے۔ ان حملوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انتہائی پوشیدہ طریقے سے کیے جاتے ہیں اور عام حفاظتی نظام انہیں پہچاننے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے اکثر کاروبار نہ تو جدید سکیورٹی سسٹمز کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس تربیت یافتہ ماہرین کی ٹیمیں ہوتی ہیں۔ یہی کمزوریاں سائبر حملہ آوروں کے لیے موقع بن چکی ہیں۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سکیورٹی کمپنی نے دو نئے اور نسبتا کم لاگت والے حل پیش کیے ہیں، Kaspersky Next XDR Optimum اور MXDR Optimum۔ یہ سسٹمز خودکار نگرانی، خطرے کی فوری شناخت اور فعال ردعمل جیسے فیچرز کے ذریعے کاروباروں کو ایک مضبوط دفاعی لائن فراہم کرتے ہیں۔یہ سسٹمز کلاڈ اور مقامی سسٹمز دونوں پر کام کرسکتے ہیں جس سے کاروباروں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ خاص طور پر XDR Optimum ان اداروں کے لیے موزوں ہے جن کا آئی ٹی نظام موجود تو ہے لیکن مکمل سکیورٹی کیلئے ابھی بھی بہتری کی ضرورت ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر خطرات صرف ایک وقتی چیلنج نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں یہ حملے اور بھی زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں جن کاروباروں نے ابھی تک اپنی ڈیجیٹل حفاظت کو سنجیدگی سے نہیں لیا وہ مستقبل میں سنگین نقصان اٹھا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں