سانحہ جڑانوالہ کے زخم آج بھی دلوں میں زندہ ہیں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سانحہ جڑانوالہ کی دوسری برسی پربشپ ڈاکٹر اندریاس رحمت نے پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ دن ہے جو ہمیں دو سال پہلے کے ان دردناک لمحات کی یاد دلاتا ہے جب بے گناہ خاندانوں کے گھروں اور مقدس مقامات پر حملہ ہوا۔ یہ واقعہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک زخم تھا۔ اس روز نہ صرف املاک جلائی گئی بلکہ آئین ِ پاکستان کی مذہبی آزادی اور شہری تحفظ کی ضمانت بھی پامال ہوئی۔دو سال گزرنے کے باوجود یہ زخم ہمارے دلوں میں تازہ ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ وقت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مشکلات اور آزمائشوں میں ہم نے کس طرح ایک دوسرے کا ساتھ دیا، ایک دوسرے کو سہارا دیا، اور امن و محبت کا پرچم بلند رکھا۔میں ان سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے متاثرین کے لیے دعا، اخلاقی سپورٹ اورعملی مدد فراہم کی۔اور جنہوں نے دن رات محنت کر کے متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا۔میری طرف سے مسلم بھائیوں کا خصوصی شکریہ جنہوں نے بھائی چارے کا عملی مظاہرہ کیا اور دکھ کی گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے۔میں مختلف اداروں کے تعاون کو بھی سراہتا ہوں جنہوں نے متاثرین کی بحالی میں کردار ادا کیا۔تاہم، آج ہم یہاں صرف شکریہ ادا کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک مطالبہ دہرانے کے لیے بھی جمع ہوئے ہیں انصاف کا مطالبہ۔ہم پولیس اور عدالتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کیس میں شفاف اور تیز رفتار کارروائی کو یقینی بنائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف ملے اور ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہو۔کیونکہ انصاف میں مزید تاخیرنہ صرف متاثرین کے زخم گہر ے کرے گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی مجروح کرے گی۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ایسے سانحات دوبارہ کبھی نہ ہوں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیں، تعلیمی نصاب میں رواداری اور احترام کے پیغامات شامل کریں، اور ایسے قوانین اور اقدامات کو مضبوط کریں جو نفرت انگیزی کو روکتے ہیں۔آخر میں، میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ ہم اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کا احترام کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور امن کا رشتہ قائم رکھیں۔سانحہ جڑانوالہ کا پیغام یہی ہے کہ نفرت کو شکست صرف محبت، مکالمہ اور انصاف سے دی جا سکتی ہے۔خدا ہمیں امن کا پیامبر بنائے، اور ہمارے ملک کو ہر قسم کے تعصب، نفرت اور تشدد سے محفوظ رکھے۔اس موقع پر فادر خالد رشیدعاصی ، فادر یعقوب یوسف ، شاہد انور ایڈووکیٹ، رانا زاہد ایڈووکیٹ و دیگر بھی موجود تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں