سکول بند ہونے سے والدین پریشان،طلبہ بھی نا خوش،اساتذہ نے چپ سادھ لی

صفدرآباد(نامہ نگار)والدین سکول مزید عرصے کیلئے بند ہونے پر پریشان،طلبہ و طالبات بھی خوش نہیں،اساتذہ نے چپ سادھ لی ، چھٹیا ں انجوائے کرنے میںدلچسپی لینے لگے۔ توانائی بچت کی آڑ میں تعلیمی نقصان مدتوں پورا نہ ہو سکے گا ، حکومت ایسا لائحہ عمل بنائے کہ بچوں کی زندگی تباہ نہ ہونے پائے۔والدین کانمائندہ ڈیلی بزنس رپورٹ سے ملاقات میںاظہار خیال ،عجیب بات ہے کہ پرائمری سکول بھی بند ہے اور یونیورسٹی بھی بند،پہلی جماعت اور ہائر ایجوکیشن ایک ہی لاٹھی سے ہانکے جا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ موجودہ تعلیمی افسران کی جگہ ایسے افراد کو عہدوںپر بٹھائے جو ملک و قوم کا سوچیں۔365 دنوں میں سکول کالج کتنے دن کھلے چھٹیاں کتنی ہوئیں حکومت قوم کے سامنے اعدادو شمار لائے۔حکومت جامع پالیسی بنائے ماہرین تعلیم کو کنسلٹ کیا جائے،آن لائن کلاسز کوئی حل نہیں،عوام کی بڑی تعداد ان پڑھ ہے ،استفادہ مشکل ہے۔غربت نے پنجے گاڑھ رکھے ہیں ہر طالب علم کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ نہیںخرید سکتا۔ہزاروں نہیں لاکھوں بچے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ پیسے کا معاملہ ہے ۔ بچوں کا مستقبل تاریک ہو چکا،مزید نہ کیا جائے ۔ والدین مہنگائے کے دور میں اپنے بچوں کو اکیڈمیوں میں بھیجنے پر مجبور،ان پر فیسوں کا بوجھ بڑھ گیا پہلے ہی مہنگائی کے مارے ہوئے ہیں سکول کالج بند ہونے سے مزید اخراجات کیسے برداشت ہونگے،عوام کیا کریں ،ماہرین کوئی حل نکالیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں