سیالکوٹ میں بارشوں کا 49سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

سیالکوٹ (نامہ نگار) سیالکوٹ میں بارشوں کا 49سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر آج سیالکوٹ میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا’سیالکوٹ میں405ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، رنگ پورہ، علامہ اقبال چوک، دارا آرائیاں، پریم نگر سمیت متعدد علاقے زیر آب آ گئے۔اس سے قبل 6اگست 1976کو 339.7ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔محکمہ موسمیات نے مزید بارش کی پیشگوئی بھی کر رکھی ہے، نالہ ڈیک میں طغیانی سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں، ضلعی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ دیہاتوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔آج 27اگست 2025 کو ضلع سیالکوٹ کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں، ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر لوکل تعطیل کا اعلان کردیا ہے، شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر چھٹی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے کہا کہ شہری اپنے گھروں میں رہیں اور بلا ضرورت سفر سے گریز کریں، شہری دریاں اور ندی نالوں پر ہرگز نہ جائیں، دفعہ 144 کا نفاذ ہے، خلاف ورزی پر کارروائی ہو گی۔کوٹ مومن میں بھی سیلابی صورتحال کے پیش نظر آج تمام سکولوں میں چھٹی کا اعلان کر دیا گیا، تحصیل انتظامیہ نے بچوں کی حفاظت کے پیش نظر فیصلہ کیا، انتظامیہ کے مطابق سیلابی خطرات کے باعث تعلیمی سرگرمیاں آج معطل رہیں گی۔واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے دریاں میں بغیر اطلاع پانی چھوڑنے کے باعث پاکستان میں شدید آبی بحران پیدا ہوگیا ہے، دریائے ستلج، راوی اور چناب میں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔سیلاب کے نتیجے میں دریا کنارے کی درجنوں بستیاں زیر آب آ گئیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، جبکہ مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے مطابق ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر درمیانے درجے کے ریلا کی اطلاع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں