سیلاب’ بارشی پانی کو سٹور کرنے کیلئے ڈیمز بنائے جائیں

فیصل آبا(سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے پٹرولیم اور سیاست دان رانا زاہد توصیف نے ملک میں جاری سیلاب کی تباہ کاریوں، قیمتی جانوں اور املاک کے ضیاع پر تشویش اور ا فسو س کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ملک میں سیلابی اور بارشی پانی سٹور کرنے کے لیے ذخائر نہیں بنیں گے اس وقت تک ایسے ہی صورتحال رہے گی۔ اس کے لیے حکمرانوں کو ہنگامی بنیادوں پر ماسٹر پلان بنانا ہوگا تاکہ ہم مستقبل میں ایسی سنگین صورتحال سے بچ سکیں۔ نہ صرف پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیمز بلکہ تعلیم، صحت، کاروباری مواقعوں کی فراہمی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر ماسٹر پلان کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بدقسمتی سے وطن عزیز مختلف النوع مسائل میں گھر چکا ہے۔ سیلاب کی جاری صورتحال سے نہ صرف اموات ہوئیں۔ بلکہ ہزاروں افراد بیگھر ہوئے۔ اس کے ذمہ دار وہ سیاست دان ہیں جنہوں نے آئی ایم ایف سے کھربوں کے قرضے تو لئے مگر بیکار منصوبوں کی نذر کر دیئے اور ہم آبی ذخائر نہ بنا سکے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں گذشتہ دنوں تیز بارشوں کی باعث قیمتی سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس ملک کا کوئی “والی وارث” نہ ہے۔ اور نہ ہی چیک اینڈ بیلنس یا مانیٹرنگ سسٹم ہے۔ اب بہت ہو چکا لہذا عوام کا پیسہ عوامی مفاد میں لگنا چاہیے۔ حکومت کو سوچنا چاہیے کہ سیلاب سے متاثرہ غریب افراد کا کیا قصور ہے؟ کیا وہ محب وطن پاکستانی شہری نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں