سیلاب کے باعث ٹیکس وصولیوں میں200ارب کی کمی کا خدشہ

اسلام آباد (بیوروچیف) بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سیلاب متاثرین کیلئے منتقلی کی تجویز ہے جو آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہے۔ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے دوسرے جائزہ اجلاس کے تحت مذاکرات 25ستمبر سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو ایف بی آر کے مجوزہ ٹیکس ہدف میں کمی کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنا ہوگا ،بشرطیکہ اخراجات میں بھی اسی تناسب سے کمی کی جائے تاکہ متفقہ پرائمری سرپلس ہدف حاصل کیا جا سکے ۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو رواں مالی سال ستمبر کے اختتام تک3اعشاریہ 83 ٹریلین روپے کی ٹیکس وصولی کا ہدف دیا گیا ہے تاہم معیشت کی سست روی اور مسلسل تباہ کن سیلابوں کے باعث ٹیکس وصولیوں میں تقریبا 2 سو ارب روپے کی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس میں گزشتہ دو ماہ کا شارٹ فال بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق یا تو اخراجات کم کیے جائیں گے یا پھر اضافی محصولات کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔ سیلاب کے باعث اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی کے باعث اقتصادی ترقی کی شرح میں کمی اور ممکنہ طور پر مہنگائی میں اضافے کے باعث جی ڈی پی گروتھ کم ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر آئی ایم ایف اضافی ریونیو اقدامات پر زور دے سکتا ہے تاکہ سیلاب سے متعلق اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں