شادی کی تقریب میں مہمانوں کیلئے باربی کیو کی تیار میں تاخیر پر کاریگر قتل

شیخوپورہ (نامہ نگار) شیخوپورہ کے قریب نواں کھوہ گائوں میں پولیس حکام نے شادی کی تقریب کے دوران تاخیر سے آنے والے مہمانوں کے لیے مبینہ طور پر باربی کیو کی تیاری میں دیر ہونے پر کاریگر کو قتل کرنے والے 7افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔ذرائع کے مطابق محلہ صدیقہ کالونی کے رہائشی سید ثناالرحمن نامی شکایت کنندہ نے پولیس کو بتایا کہ ان کی شرقپور روڈ پر باربی کیو کی دکان ہے، ضیغم عباس نامی شخص نے نواں کھوہ گاں میں شادی کی تقریب میں باربی کیو بنوانے کے لیے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔مدعی کے مطابق آرڈر ملنے پر مقررہ تاریخ پر منگل کی شب وہ اور ان کے بھائی نواں کھوہ گائوں میں شادی کے مہمانوں کے لیے باربی کیو بنانے گئے، جب ہم نے اپنا کام ختم کرلیا، اور تمام مہمانوں کو باربی کیو پیش کر دیا، اور ہم سامان سمیٹ کر واپس شرقپور آنے کی تیاری کر رہے تھے، تو اس دوران شادی میں مزید کچھ مہمان تاخیر سے پہنچ گئے۔ مدعی کے مطابق ضیغم عباس نامی شخص نے ہم پر نئے آنے والے مہمانوں کے لیے بھی فریش باربی کیو بنانے پر زور دیا، جس پر ہم نے اپنا سامان پھر سے لگایا اور باربی کیو بنانے کی تیاری کرنے لگے، تاہم اس دوران ضیغم عباس ناراض اور سخت غصہ ہوگیا، اور الزام لگایا کہ ہم باربی کیو بنانے میں تاخیر کر رہے ہیں، اس دوران اس نے ہم پر فائرنگ کردی۔مدعی کے مطابق ملزم کی جانب سے چلائی گئی ایک گولی اس کے بھائی سلیم ناصر کو لگی، جس سے وہ موقع پر جاں بحق ہوگیا، تاہم اس دوران ملزم ضیغم اور اس کے ساتھی ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے۔بھکی پولیس نے مدعی کے بیان کے مطابق فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) زیر دفعہ پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی)302، 148اور 149درج کرلی، مقدمے میں ضیغم عباس، خرم عباس، فیصل عباس اور 4نا معلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔پولیس نے مقتول کی میت کو ہسپتال منتقل کرکے پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا، مقدمہ تفتیشی پولیس کو منتقل کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں