صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات پر گہری تشویش

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یو نین آف جرنلسٹس (ورکرز )و صدر فیصل آباد پریس کلب شاہد علی نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تحفظات اور گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آزادی اظہارِ رائے کو محدود کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں، جو نہ صرف آئینِ پاکستان کی روح کے منافی ہیں بلکہ ایک مہذب، جمہوری معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ انہوں نے یہ گفتگو کرائم کی رپورٹنگ کرنے والے بیورو چیف اب تک نیوز خادم گل کو حراساں کرنے کے لیے اے ایس پی بلال حسن کی طرف سے ایف آئی اے میں درخواست دینے اور نوٹس دلوانے جبکہ بیورو چیف سیون نیوز میاں منور کے آزادی اظہار سے روکنے کے لیے ایف آئی اے سے نوٹس دلوانے کے تناظر میں کی آزادی اظہار ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے، خصوصا صحافیوں کے لیے یہ حق ایک قومی فریضے کی حیثیت رکھتا ہے تاکہ وہ عوام کے مسائل، اداروں کی کارکردگی اور بدعنوانی کو بے نقاب کر سکیں۔ اگر کسی صحافی سے سچ بولنے کا حق چھینا جاتا ہے تو یہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19کی صریح خلاف ورزی ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ اگر ریاست یہ سمجھتی ہے کہ صحافیوں کو خاموش کرا کے مسائل کو چھپایا جا سکتا ہے، تو یہ ایک خطرناک فریب ہے۔ سچ کی آواز دبائی جا سکتی ہے، مگر ختم نہیں کی جا سکتی۔ اگر آئین صحافیوں کو حقِ اظہار دیتا ہے تو پیکا جیسے قوانین کا غلط استعمال آئینی روح سے انحراف کے مترادف ہے۔ آج کل صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی باکردار، غیر جانبدار اور با ضمیر صحافی کسی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے کی کرپشن، نااہلی یا بدانتظامی کو بے نقاب کرتا ہے تو اسے فورا پیکا ایکٹ یا ایف آئی اے کے نوٹسز کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل صرف صحافت پر نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں