ضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے مویشی منڈیوں میں ٹھیکداروں کی لوٹ مار

فیصل آباد(آن لائن) مویشی منڈی نیاموآنہ سمیت دیگرمقامات پرضلعی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ٹھیکیداروں کی لوٹ مار، بیوپاری اور خریدار پریشان، ٹھیکیدار بیوپاریوں سے بڑے جانوروں کی فی جا نور 20سے 30ہزار روپے وصول کررہے ہیں اور خریداروں سے بھی فیس وصول کی جارہی ہے۔ جانور کی منڈی انٹری اور شیڈ کی فیس میں کئی سو گنا تک اضافہ، جبکہ منڈیوں میں جانوروں کے چارہ سمیت دیگر کھانے پینے کی اشیا دو گنا ہ اضا فے کے ساتھ فروخت، ٹھیکیداروں کو نوازنے کیلئے عرصہ دراز سے قائم عارضی منڈیوں کے خلاف ضلعی انتظا میہ کا آپریشن،، آن لا ئن کے مطا بق نڑوالہ روڈ بائی پاس کے قریب عرصہ دراز سے قائم عارضی مویشی منڈی کے خلاف ضلعی انتظا میہ کی جانب سے آپریشن کیا گیا، بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ عرصہ دراز سے ضلعی انتظا میہ یہا ں پر سہولتیں فراہم کرتی تھی اور نہ ہی کو ئی فیس وغیرہ وصول کی جاتی تھی، غلا م محمد آبا د سمیت گردونوا ح سے آنے والے لوگ یہا ں سے خریدوفروخت کرتے تھے،جبکہ ضلعی انتظا میہ کی جانب سے آپریشن کر کے نا انصا فی کی گئی ہے،علا وہ ازیں فی جانور انٹری اور شیڈ کی فیس میں کئی سو گنا تک اضافہ کردیا گیا جس کے باعث جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں رونقیں تو بڑھ گئی ہیں، مگر منڈی انتظامیہ اور ٹھیکیداروں کی من مانیاں بیوپاریوں اور خریداروں دونوں کے لیے دردِ سر بن گئی ہیں۔ بیوپاریوں کے مطابق بڑے جانوروں کو جگہ فراہم کر نے کیلئے فی جا نور 21سے 24ہزار روپے وصول کئے جارہے ہیں، بجلی اور پا نی کی فراہمی کیلئے خود خرچ کر تے ہیں، جبکہ چھوٹے جانوروں کی جگہ فراہی پر اس جانور کی قیمت کے مطا بق 3سے 4فیصد قیمت وصول کی جا ئے گی، اس کے علاوہ جس ٹینٹ کے نیچے اونٹ ٹھہرائے جاتے ہیں، اس کا کرایہ پچھلے سال 60ہزار روپے تھا، جو اس بار اڑھائی لاکھ روپے وصول کیا جا رہا ہے۔ یعنی کہ انٹری اور شیڈ کے اخراجات میں کئی سو گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بیوپاریوں کا کہنا ہے بھاری اخراجات کے بعد جانور سستا بیچنا ممکن نہیں۔ منڈی کے ٹھیکیداروں نے بیوپاریوں کو لوٹنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا، اور یہی اضافی اخراجات اب خریداروں سے وصول کرنا مجبوری ہے۔خریداروں کی شکایات بھی کچھ کم نہیں، جا نور خرید کر باہر لے جا نے پر بھی غیر قا نو نی رقم وصول کی جا رہی ہے، شہریوں کا مطالبہ ہے حکومت منڈیوں میں فیسوں کا تعین خود کرے اور ٹھیکیداروں کی من مانیوں کا نوٹس لے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں