فیلڈ رپورٹس کے مطابق گندم کی صورتحال بہت اچھی ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سیکرٹری زرا عت پنجاب افتخار علی سہو کی زیرِ صدارت گندم اور کپاس بارے اہم اجلاس منعقد ہواجس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی، سپیشل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سرفراز حسین مگسی، سید حسن رضا، ڈاکٹر محمد اقبال بندیشہ، ڈائریکٹر جنرلز محکمہ زراعت پنجاب عبدالحمید، نوید عصمت کاہلوں، ڈاکٹر عامر رسول نے شرکت کی جبکہ دیگر افسران آن لائن شریک ہوئے.اجلاس میں فصلوں خصوصا گندم اور کپاس کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فیلڈ رپورٹس کے مطابق گندم کی موجودہ صورتحال بہت اچھی ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ حتمی سروے کے مطابق پنجاب میں گندم کی 22.5ملین میٹرک ٹن سے زائد پیداوار متوقع ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ حالیہ موسمی حالات کے پیشِ نظر گندم کی کٹائی، گہائی، ذخیرہ اور ترسیل بارے بروقت رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ کسانوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اجلاس میں کپاس کی کاشت سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری زراعت نے کہاکہ صوبہ پنجاب میں قریباً 35لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کاشت کی جائے گی جبکہ کپاس کی اگیتی کاشت کا عمل آخری مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ 31مارچ تک کپاس کی اگیتی کاشت کا ہدف حاصل کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی منظرنامے کے مطابق کپاس کی قیمتوں میں استحکام اور اضافے کے روشن امکانات موجود ہیں، لہٰذا کپاس کی موسمی کاشت کے لیے مرتب کردہ بہترین حکمتِ عملی اپنائی جائے اور کپاس کی مرحلہ وار نگہداشت بارے بروقت رہنمائی فراہم کی جائے۔سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے بتایا کہ بہاولپور ڈویژن کو کاٹن ویلی بنانے کے لیے قریباً 2ارب روپے کے منصوبہ کا آغاز ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاٹن ویلی منصوبہ کے تحت چیزل پلو پر 1لاکھ 20ہزار روپے فی یونٹ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ کاٹن ماڈل فارمز قائم کرنے پر 50ہزار روپے فی فارم مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید برآں پاور سپرئیر کے لیے 25ہزار روپے فی یونٹ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں