قائمہ کمیٹی کی ریلوے پولیس سمیت دیگر اداروں میں بھرتیوں کی سفارش

اسلام آباد(بیوروچیف ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کو بتایا گیا کہ ریلوے میں آسامیاں کی تعداد 95 ہزار ہے جبکہ 55 ہزار سے زائد لوگ ریلوے میں کام کررہے ہیں قائمہ کمیٹی نے ریلوے پولیس سمیت دیگر اداروں میں ریگولر بنیاد پر بھرتیاں کرنے کی سفارش کردی چیئرمین کمیٹی سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس منعقد ہوا چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ریلوے پولیس سے متعلق کئی شکایات مل رہی ہیں گزشتہ 2 ماہ میں ریلوے پولیس میں ٹرانسفر پوسٹنگ کا ریکارڈ کمیٹی کو جمع کرائیں سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ ریلوے پولیس سمیت دیگر اداروں میں نئے لوگوں کی بھرتیوں کی ضرورت ہے ریلوے میں لوگوں کو کنٹریکٹ پر نہیں ریگولر بنیاد پر بھرتی کیا جائے سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ 95 ہزار ریلوے میں پوسٹس کی تعداد ہے، 55 ہزار سے زائد لوگ ریلوے میں کام کررہے ہیں شہادت اعوان نے کہا کہ پولیس میں جو خالی آسامیاں پڑی ہیں، ان پر بھرتیوں کا عمل تیز کیا جائے،سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ کابینہ کے فیصلہ کو دیکھتے ہوئے ہم نے ریلوے میں ہایئرنگ کنٹریکٹ بنیاد پر کرنی ہیں سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ عید الفطر سے پہلے ملک بھر میں خصوصی ٹرینیں چلائی جائیں اس وقت ریلوے میں کتنے سیکورٹی واک تھرو گیٹس ہیں ؟ریلوے پٹریوں پر تجاوزات کی بھرمار ہے،اجلاس میں کمیٹی ارکان نے محکمہ ریلوے میں کنٹریکٹ بنیاد پر بھرتیوں پر تحفظات کا اظہار کردیا چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ریلوے پولیس میں نوجوان اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر عوام کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں قائمہ کمیٹی نے ریلوے پولیس سمیت دیگر اداروں میں ریگولر بنیاد پر بھرتیاں کرنے کی سفارش کردی آئی جی ریلویز نے کہا کہ ریلوے پولیس میں نئی بھرتیاں میرٹ پر ہوں گی، علاقائی کوٹہ کا خیال رکھا جائے گا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ریلوے ملازمین کی پینشن کا سسٹم دیگر اداروں کی طرح یونیفارم کیا جائے قائمہ کمیٹی نے ریلوے ملازمین کی پنشن سے متعلق یونیفارم پالیسی کی سفارش کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں