قرض پر قرض مسائل کا حل نہیں

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ معرکہ حق پاکستان کی عظیم فتح ہے، فیلڈمارشل نے دکھایا جنگیں کیسے لڑی جاتی ہیں۔ بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاک بنگلادیش تعلقات مزیدبہتری کی طرف جائیں گے، بنگلادیش سے تجارت اورسفارتی تعلقات بڑھائیں گے’ وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق پاکستان کی اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے عظیم فتح ہے، الحمداللہ پوری دنیانے دیکھاکہ ہم نے بھارت کو شکست فاش دی، افواج پاکستان نے دلیری، بہادری اور شجاعت کے باعث بھارت کا غرور کو خاک میں ملایا۔ شہبازشریف نے کہا کہ افواج کی بہترین ٹریننگ، ائیرفورس اور ائیرچیف نے بھارت کو گھمنڈ پاش پاش کیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے قیادت کی، انہوں نے پوری دنیا کو دکھایاکہ کسی جنگیں لڑی جاتی ہیں۔ شہبازشریف کا کہنا تھا کہ فلسطین سے متعلق مشترکہ اعلامیہ آ گیا۔ عمل کیسے کرنا ہے اس پر آج گفتگو ہوگی ۔ غزہ میں جلد سیز فائر ہوگا۔دریں اثنائ۔نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آئندہ نسلوں کیلئے ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا کاربن گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر لیکن اس سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے، ہمارا ماحولیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا عزم پختہ اور غیر متزلزل ہے، ملک میں متبادل توانائی اور شجر کاری کو فروغ دیا جارہا ہے ،2035 تک انرجی مکس میں قابلِ تجدید اور پن بجلی کا حصہ بڑھا کر 62فیصد تک کیا جائے گا،2030 تک جوہری توانائی کی صلاحیت میں 1200میگاواٹ اضافہ کیا جائے گا، 30فیصد ٹرانسپورٹ کو صاف توانائی پر منتقل کیا جائے گا اورپانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا،قرضوں پر قرضے مسئلے کا حل نہیں ، عالمی برادری ماحولیاتی تحفظ کیلئے مالی معاونت کے وعدے پورے کرے ۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری اور برازیل کے صدر کی جانب سے نیویارک میں منعقدہ اسپیشل کلائمیٹ ایونٹ سے خطاب کررہے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ایسے وقت میں یہاں مخاطب ہیں جب پاکستان کو مون سون کی شدید بارشوں، کلاڈ برسٹ اور تباہ کن سیلاب کی صورتحال درپیش ہے ،اس موسمیاتی آفت کی وجہ سے 50لاکھ سے زائد افراد اور 4100دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں، 2022 میں بھی پاکستان کو سیلاب سے 30ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا تھا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے تھے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس خود اس صورتحال کا مشاہدہ کر چکے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا عالمی گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن ہم اپنے حصے سے کہیں زیادہ نقصانات اٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ عالمی برادری آئندہ نسلوں کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں گے ۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کیلئے پاکستان کے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان زہریلی گیسوں کے اخراج کو روکنے اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہا ہے ، بڑے پیمانے پر شجر کاری اور جنگلات لگائے جارہے ہیں ، مینگروز کے تحفظ کو یقینی بنایا جارہا ہے ،متبادل اور ماحول دوست پن بجلی ، شمسی اور نیوکلیئر توانائی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کہ پاکستان کا ماحولیاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا عزم پختہ اور غیر متزلزل ہے، پاکستان نے 2030 تک گرین ہائوس گیسوں کے اخراج میں بغیر کسی شرط کے 15فیصد کمی کا وعدہ کیا تھا۔ مجموعی 50فیصد کمی کے ہدف کے تحت پاکستان پہلے ہی اپنے غیر مشروط 15فیصد کمی کے وعدے کو پورا کر چکا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے انرجی مکس میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ اس وقت 32فیصد سے زائد ہے۔ شمسی توانائی کی پیداوار 2021 کے بعد سات گنا بڑھ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نیشنل ایڈاپٹیشن پلان پر عمل درآمد ناکافی عالمی ماحولیاتی مالی معاونت کے باعث شدید طور پر متاثر ہو رہا ہے۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ2035 تک ملک کے انرجی مکس میں قابلِ تجدید اور پن بجلی کا حصہ بڑھا کر 62فیصد تک کیا جائے گا، 2030تک جوہری توانائی کی صلاحیت میں 1200میگاواٹ اضافہ کیا جائے گا، 2030تک 30فیصد ٹرانسپورٹ کو صاف توانائی پر منتقل کیا جائے گا،ملک بھر میں 3ہزار چارجر اسٹیشن قائم کیے جائیں گے،کلائمیٹ سمارٹ زراعت کو فروغ دیا جائے گا،پانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ آگے بڑھایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں