قرض کی دوسری قسط کیلئےIMFسے باضابطہ مذاکرات شروع

اسلام آباد (بیوروچیف) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اقتصادی جائزہ مشن اور پاکستان کی معاشی ٹیم کے درمیان باضابطہ مذاکرات آج سے شروع ہوگئے، آئی ایم ایف وفد اقتصادی جائزہ مشن کے باقاعدہ مذاکرات کے لیے وزارت خزانہ پہنچ گیا۔آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے لیے پالیسی مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا’معاشی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب جبکہ آئی ایم ایف وفد کی قیادت نیتھن پورٹر کر رہے ہیں۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف وفد کو معاشی صورتحال پر بریفنگ دی، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال بھی مذاکرات میں شریک ہیں، وزارت خزانہ کی جانب سے جولائی سے فروری تک معاشی اعشاریوں پر آئی ایم ایف وفد کو پریزنٹیشن دی گئی۔وفد کو مالیاتی خسارہ، پرائمری بیلنس، صوبوں کا سرپلس، ریونیو کلیکشن پر تفصیلات پیش کی گئیں، آئی ایم ایف وفد سے رواں مالی سال کے لیے جولائی سے جنوری تک ریونیو پر بات ہوئی، اکنامک ونگ، بجٹ ونگ، ایکسٹرنل فنانس ونگ، ریگولیشنز ونگ، ڈی جی ڈیٹ پر بریفنگ دی گئی۔وفد کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جولائی سے دسمبر مالیاتی خسارہ 1ہزار 537ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ریونیو کلیکشن پر چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال بریفنگ دے رہے ہیں، ایف بی آر بورڈ ممبران بھی وفد سے مذاکرات میں شریک ہیں۔قبل ازیں آئی ایم ایف کے مشن نے پاکستان کے ساتھ 7ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے پہلے جائزے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق نیتھن پورٹر کی قیادت میں نو رکنی آئی ایم ایف وفد نے سیکریٹری خزانہ کی سربراہی میں حکومتی معاشی ٹیم سے ملاقات کی۔ آئی ایم ایف مشن تقریبا دو ہفتے تک پاکستان میں قیام کرے گا۔مذاکرات دو مراحل میں ہوں گے، پہلے مرحلے میں تکنیکی امور پر بات چیت کی جائے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں پالیسی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق 2025-26کے بجٹ، جو اس وقت تیاری کے مرحلے میں ہے، اس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔آئی ایم ایف وفد وزارت خزانہ، وزارت توانائی، پلاننگ کمیشن، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سمیت مختلف حکومتی اداروں کے ساتھ ملاقاتیں کرے گا۔اس کے علاوہ، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے نمائندوں کے ساتھ بھی علیحدہ مذاکرات کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق چیئرمین ایف بی آر بھی اعلی سطحی وفد کے ہمراہ آئی ایم ایف مشن سے ملاقات کریں گے، جس میں ممبر پالیسی، ممبر آپریشن اور ممبر ریفارمز شامل ہوں گے۔ اسی طرح سیکریٹری پاور کی سربراہی میں ایک اور وفد جائزہ مشن سے ملاقات کرے گا، جس میں اوگرا اور نیپرا کے حکام بھی شریک ہوں گے۔ اس ملاقات میں پاور سیکٹر میں ڈسکوز کی نجکاری اور مالی نقصانات پر بات چیت کی جائے گی۔آئی ایم ایف مشن اور حکومت کے درمیان یہ مذاکرات 15 مارچ تک جاری رہیں گے، اور اگر معاملات کامیابی سے طے پا گئے تو پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کی دوسری قسط ملنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں