ماموں کانجن میں گرانفروشوں کا راج،شہری پریشان

ماموں کانجن (نامہ نگار) ماموں کانجن میں مہنگائی بے قابو ہو گئی ہے ۔ پھلوں، سبزیوں اور روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی قیمتوں نے شہریوں کے ہوش اڑا دیے ۔ دکانوں سے پرائس کنٹرول کے سرکاری نرخ ناموں کی لسٹیں غائب، دکانداروں کی من مانیاں عروج پر ہے ، شہری مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہیں ۔نہ نرخ نامے نظر آتے ہیں اور نہ قیمتوں پر مثر نگرانی دکھائی دیتی ہے ضلعی انتظامیہ نوٹس لے ماموں کانجن مہنگائی کا جن بے قابو ہو گیا ہے۔ پھلوں اور سبزیو ں سمیت روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔صورتحال یہ ہے کہ شہری ضروری اشیا خریدنے کے لیے بازاروں کا رخ کرتے ہیں تو قیمتیں ان کے لیے بڑا امتحان بن جاتی ہیں۔ شہریوں کی شکایات ہیں کہ دکانوں پر پرائس کنٹرول کے سرکاری نرخ نامے غائب ہیں، جبکہ بعض دکاندار مبینہ طور پر اپنی من مانی کے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ سرکاری نرخ ناموں کی عدم دستیابی میں صارفین کو یہ جاننے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں کہ کسی چیز کی مقررہ قیمت کیا ہے اور دکاندار ان سے کتنی زائد رقم وصول کر رہا ہے۔ بازاروں میں سرکاری نرخ نامے آویزاں کرانے کی ذمہ داری کس کی ہے۔پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی نگرانی کہاں ہے۔ اور اپنی مرضی کے نرخ وصول کرنے والوں کو قانون کے دائرے میں کون لائے گا۔مہنگائی کے ستائے شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام دکانوں پر سرکاری نرخ نامے نمایاں مقامات پر آویزاں کرائے جائیں، بازاروں میں مثر چیکنگ کی جائے اور مقررہ نرخوں سے زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں