ماہر فلکیات نے فوسل کہکشاں دریافت کر لی

اٹلی ( مانیٹرنگ ڈیسک )ماہرین فلکیات نے کائنات کی نایاب ترین کہکشاں میں سے ایک قدیم فوسل کہکشاں دریافت کی ہے جو 7 ارب سال سے زائد عرصے سے بغیر کسی تبدیلی کے موجود ہے، یہ دریافت کائنات کی تاریخ کے مطالعے میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔یہ کہکشاں جسے KiDS J0842+0059 کا نام دیا گیا ہے زمین سے تقریبا ًتین ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ پہلی فوسل کہکشاں ہے جسے ہماری مقامی کائناتی حدود سے باہر دریافت کیا گیا ہے۔ یہ کارنامہ اٹلی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ایسٹرو فزکس (INAF) کے زیر قیادت ماہرین کی ٹیم نے انجام دیا، جنہوں نے Large Binocular Telescope کی مدد سے اس نایاب دریافت کی تصدیق کی۔ماہرین کے مطابق فوسل کہکشائیں وہ ہوتی ہیں جو ستاروں کی تشکیل کے ابتدائی مرحلے کے بعد کسی بھی اور کہکشاں کے ساتھ ضم ہونے سے بچ جاتی ہیں، وہ دیگر کہکشاں کے برعکس، وقت کے ساتھ نہ تو پھیلتی ہیں اور نہ ہی ستاروں کی مزید تخلیق کرتی ہیں۔اس تحقیق کے مرکزی رکن ڈاکٹر کریسینزو ٹورٹورا کہتے ہیں کہ یہ کہکشائیں گویا قسمت سے محفوظ رہ گئیں، وہ ضم نہیں ہوئیں اور اسی حالت میں وقت کی گرد میں چھپ گئیں۔یہ نئی دریافت شدہ کہکشاں اپنی ساخت میں انتہائی گھنی، چھوٹی اور قدیم ہے، جس میں ستاروں کی تخلیق کا عمل مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، ماہرین کے مطابق یہ کہکشاں تقریبا 99.5 فیصد ستارے کائنات کے بالکل ابتدائی دور میں بنا چکی تھی اور اس کے بعد سے کوئی بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں