مریم نوازکی کارکردگی گنڈا پور سے بہتر قرار

پشاور (بیوروچیف) گیلپ سروے میں کے پی کے 50فیصد عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی کی تعریف کی ہے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے بہتر قرار دیا ہے ، 47فیصد کا بانی پی ٹی آئی کو علی امین کو ہٹانے کا مشورہ ،36فیصد پی ٹی آئی سپورٹرز بھی ہٹانے کے حامی ۔ تفصیلا ت کے مطابق خیبرپختونخوا کے ہر دس میں سے چار افراد نے بانی پی ٹی آئی کو وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا کو عہدے سے ہٹانے کا مشورہ دیا ہے،، اس بات کا پتہ گیلپ پاکستان کے سروے سے چلا ، جس میں صوبہ خیبرپختونخوا سے 3 ہزار افراد نے حصہ لیا۔ سروے میں 47فیصد شہریوں نے بانی پی ٹی آئی کو وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کا مشورہ دیا،البتہ 40 فیصد نے مخالفت کی اور کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا،،13 فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ سیاسی بنیادوں پر جوابات کو دیکھا جائے توسروے میں پی ٹی آئی کے 36 فیصد سپورٹرز نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو ہٹانے کی حمایت کی البتہ پی ٹی آئی کے 53فیصد ووٹرز نے وزیر اعلی کا ساتھ دیااور ہٹانے کی کھل کرمخالفت کی۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی مختلف شعبوں میں کارکردگی پر سروے میں 53فیصد نے صوبے میں کرپشن روکنے میں ناکامی پر وزیر اعلی سے ناراضی کا اظہار کیا،،جبکہ 42 فیصد کارکردگی کو سراہا۔ روزگارکی عدم فراہمی پر49 فیصد ناراض نظرآئے،جبکہ 47 فیصد نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے روزگار کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سرویمیں 64فیصد افراد نے صحت کی سہولیات کی فراہمی پر اطمینان ،جبکہ 34 فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا،، پینے کیصاف پانی کی فراہمی پر64فیصد مطمئن ، 35فیصد غیر مطمئن دکھائی دیے،، 62فیصد تعلیمی سہولیات کی دستیابی پر وزیر اعلی سے مطمئن ،36فیصد غیر مطمئن دکھائی دیئے۔ سرویمیں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کی کارکردگی کو خیبرپختونخوا کے 50فیصد افراد نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سے بہترقرار دیا، 39فیصد نے علی امین گنڈا پور کی کاردگی کو وزیر اعلیٰ پنجاب سے بہتر کہا۔ مریم نواز کی کارکردی کو بہتر قرار دینے والوں میں پی ٹی آئی کے 37 فیصد ووٹرز بھی شامل نظرآئے۔ سروے میں علی امین گنڈاپور کی کارکردگی کا سابق وزرائے اعلی کی کارکردگی سے بھی موازنہ کیاگیا،،52فیصد نے ان کی کارکردگی کو سابق وزیر اعلی محمود خان سے بری یا ان جیسی کہا،،جبکہ 37فیصد نے بہتر قرار دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کی کارکردگی سے موازنے پر 51فیصد نے وزیر اعلیٰ علی امین کی کارکردگی کو ان سے بری یا ان جیسی ہی قرار دیا،،البتہ 38فیصد نے علی امین کی کارکردگی کو پرویز خٹک سے بہتر کہا۔ سروے میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13 سالہ حکومت کے دور میں 59فیصد شہریوں نے سڑکوں می بہتری ،53 فیصد نے پبلک ٹرانسپورٹ جبکہ 50 فیصد نے صفائی سمیت دیگر انتظامات بہتر ہونے کا کہا۔ مگرساتھ 54فیصد نے شکایت کی کہ 2024 کے انتخابات کے بعد سڑکوں کی بہتری کیلیے کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا،،61 فیصد نے پبلک ٹرانسپورٹ جبکہ 58 فیصد نے صفائی سمیت دیگر ترقیاتی کام نہ ہونے کی بھی شکایت کی ۔ پی ٹی آئی ووٹرز اپنی صوبائی حکومت سے بھی اس حوالے سے ناراض نظر آئے،49 فیصد نے پبلک ٹرانسپورٹ ،جبکہ 42فیصد نے سڑکوں کی بہتری کیلیے کوئی کام نہ ہونے کاکہا۔ صوبے میں مجموعی طورپر وسائل کی دستیابی کے سوال پر 74 فیصد نے صاف پانی اورتعلیمی سہولیات ، 66 فیصد نے سڑکوں ،63فیصدنے ٹرانسپورٹ کی دستیابی کا کہا،،مگر 81فیصد نے لائبریریز،77فیصد نے پارک ، 70فیصد نے کمیونٹی سینٹرزجبکہ 66فیصد نے گیس کی عدم دستیابی کی شکایت کی ۔ گیلپ پاکستان کے مطابق سہولتوں کی دستیابی میں ڈی آئی خان سمیت خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع دیگر علاقوں کے مقابلے میں پیچھے نظرآئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں