مسلمانوں کی حمایت میں بھارتی ہندو بھی بول اٹھے

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی مسلمانوں کے گھروں کی مسماری کے خلاف بھارتی ہندو بھی بول اٹھے، پہلگام واقعے کا جھوٹا الزام لگا کر مودی کی مسلمان دشمن نفرت اور انتہا پسندی کھل کر عیاں ہو گئی۔مودی مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دے کر ریاستی جبر اور انتقامی کاروائیوں کی آگ میں جھونک رہا ہے، آئے روز مسلمانوں کے کے گھر توڑ کر انہیں جیلوں میں ڈال کر مودی اپنی شکست کا بدلہ لینے میں مصروف ہے، پہلگام واقعے کے بعد مسلمانوں کے گھروں کی مسماری پر بھارتی ہندوں کا شدید اور غیر معمولی ردعمل سامنے آیا۔بھارتی خاتون سنیتا سنگھ سمیت دیگر ہندوئوں نے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا، بھارتی شہریوں کا کہنا تھا کہ مودی سرکار خود دہشتگرد ہے، مسلمان بہت اچھے ہیں، ان کو ویسے ہی دہشتگرد بنایا جا رہا ہے۔مسلمانوں نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا، مشکل وقت میں ہماری مدد کی، آج ان کو دہشتگرد کہا جا رہا ہے،مودی سرکار نے مسلمانوں کے ساتھ ظلم کی انتہا کر دی، ان کے گھر گرا کر اپنی نفرت کو قانون کا نام دے دیا،ہم مسلمانوں کے گھروں میں آتے جاتے تھے، یہ نفرت صرف سرکار نے پھیلائی۔ مسلمان دہشتگرد نہیں، ان پر لگائے گئے الزامات سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں،مودی سرکار نے چار دن کا نوٹس تک نہ دیا، زبردستی گھروں سے نکال کر انہیں کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا۔سینکڑوں مسلمانوں کے گھر گرا دیے گئے، ان کے پاس رہنے کو کوئی جگہ نہیں، مودی سرکار جواب دے۔سیاسی ماہرین کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کی مسلمانوں پر چڑھائی دراصل اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، پہلگام واقعے کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے گھروں کی مسماری مودی کا سوچا سمجھا انتقامی منصوبہ ہے، مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دینا مودی سرکار کی سیاسی بقا کا ہتھیار بن چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں