148

معیاری بیج کوعام کاشتکارکی دہلیزتک پہنچانا ناگزیرہے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ زراعت کو منافع بخش کاروبار بنانے اور غذائی استحکام کے حصول کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت معیاری بیج کو عام کاشتکار کی دہلیز تک پہنچانا ناگزیر ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں و دیگر چیلنجز کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی ترقی دادہ اقسام کو فروغ دے کر نہ صرف مقامی آبادی کی ضروریات کو احسن انداز سے پورا کیا جا سکے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ برآمد کر کے کثیرزرمبادلہ بھی کمایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ تیسری پاکستان سیڈ کانگریس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ ہر سال ملک کو 10ارب ڈالر کی زرعی اجناس درآمد کرنا پڑتی ہے تاہم اگر مکئی اور چاول کے ماڈل پر جدید رحجانات بشمول ہائبرڈ سیڈ جیسی ٹیکنالوجی کو عام کیا جائے تو گندم، کپاس و دیگر اجناس میں بھی پیداواریت کے جمود کو توڑتے ہوئے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں