ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) مناسک حج کا آغاز کل8ذی الحجہ سے ہوگا عازمین کو منیٰ منتقل کرنے کا آپریشن آج بعد نماز مغرب کے بعد شروع ہوگا۔ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق وزیر مذہبی امور کی نگرانی اور قیادت میں حج 2026 کی تیاریاں مکمل ہیں، اب تک 471 پروازوں سے ایک لاکھ 18 ہزار سے زائد عازمین حج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ترجمان کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی عازمین حج کو منی منتقل کرنے کا آپریشن آج بعد نماز مغرب کے بعد شروع ہوگا، جدید بسوں کے ذریعے عازمین کو سیٹ ٹو سیٹ منی پہنچایا جائے گا اور یہ عمل 8 ذی الحجہ دن 10 بجے تک مکمل کیا جائے گا۔دوران حج شدید گرمی کا امکان ہے، اس لیے عازمین حج مشاعر میں قیام کے دوران طبی ماہرین کے مشوروں پر عمل کریں۔ترجمان وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ ہر 188 حجاج کے گروپ پر ایک نگران ناظم مقرر کر دیا گیا ہے، منی کے خیموں میں پاکستانی ذائقے کے مطابق 3 وقت تازہ کھانا ملے گا۔منگل 9 ذوالحجہ کو حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ہوگا، 9 ذوالحجہ کو ظہر سے پہلے تمام عازمین کو بسوں، مشاعر ٹرین سے میدانِ عرفات پہنچایا جائے گا۔9 ذو الحجہ کو حجاج کرام خطبہ حج کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں اپنے خیموں میں ادا کریں گے اور سورج غروب ہونے تک دعاں، تسبیحات اور مناجات میں مشغول رہیں گے۔وقوف عرفات کے بعد مغرب کی نماز پڑھے بغیر بسوں اور مشاعر ٹرین کے ذریعے مزدلفہ پہنچیں گے، مزدلفہ میں مغرب اور عشا کی نماز ادا کریں گے اور رمی کیلیے 70 کنکریاں چنیں گے۔10 ذوالحجہ کی صبح وقوف مزدلفہ کے بعد حجاج کرام بڑے شیطان کی رمی (کنکر ماریں گے) کریں گے، قربانی کے بعد حجاج کرام حلق یا قصر کرتے ہی احرام سے باہر آ جائیں گے۔10 تا 12 ذو الحجہ کے درمیان کسی بھی وقت حج کا تیسرا فرض طواف زیارت اور واجب سعی کریں گے، 11 اور 12 ذو الحجہ کو منی میں تینوں شیطانوں کی رمی کریں گے اور اپنی رہائش گاہ پر واپس جائیں گے۔دریں ثناء ۔ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب نے حج 2026ء کے لیے سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات مکمل کرتے ہوئے عازمینِ حج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے اطراف جدید اینٹی ایئرکرافٹ گنز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور ریڈار نظام نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ لاکھوں زائرین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق ایامِ حج کے دوران زمینی نگرانی کے ساتھ ساتھ فضائی نگرانی بھی مسلسل جاری رہے گی۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے آنے والے عازمینِ حج کی سلامتی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کو فعال بنایا گیا ہے۔مکہ میں نصب کیے گئے فضائی دفاعی نظام میں اینٹی ایئرکرافٹ گنز کے علاوہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز اور جدید ریڈار بھی شامل ہیں، جو کسی بھی ممکنہ خطرے کی فوری نشاندہی اور ردعمل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔حکام کے مطابق رواں برس فریض حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آنے والے غیرملکی عازمینِ حج کی تعداد 15 لاکھ 18 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔حج سیکیورٹی فورسز کے کمانڈرز نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مختلف ممالک سے آنے والے تقریبا 30 فیصد عازمین روٹ ٹو مکہ انیشی ایٹو کے تحت جدید اور تیز رفتار امیگریشن نظام کے ذریعے سعودی عرب پہنچے۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس سال عازمینِ حج کی رہائش، آمدورفت، سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے بڑے پیمانے پر جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ حج کے تمام مراحل کو محفوظ، منظم اور پرسکون بنایا جا سکے۔




