مہنگی بجلی عوام کے لئے عذاب بن چکی ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اور سینئر سیاستدان رانا زاہد توصیف نے مختلف شہروں میں تیز بارشوں، سیلابی صورتحال کے باعث ہونیوالی ہلاکتوں ، متاثرین کی بے بسی ، بے سروسامانی کی کیفیت اور مختلف افرا د کے لاپتہ ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہم نے ماضی میں سیلابی پانی کوسٹور کرنے کیلئے ذخائر بنائے ہوتے تو آج سیلاب سے اتنی تباہی نہ ہوتی اس سنگین صورت حال پر پوری قوم افسردہ ہے مگر المیہ یہ ہے کہ فضول منصوبوں کے لئے عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف سے کھربوں ڈالر قرض لینے والوں نے آبی ذخائر کی تعمیر، سستی بجلی کے پراجیکٹ سمیت دیگر اہم قومی فلاحی اور عوامی منصوبوں کی تکمیل کیلئے کچھ نہیں کیا ہر سال وطن عزیز پاکستان میں آنے والے سیلاب کے باعث سینکڑوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیںاور سینکڑوں خاندان بے گھر ہو جاتے ہیں لوگ قیمتی املاک اور جانوروں سے محروم ہو جاتے ہیں مگر آئی ایم ایف سے قرض لیکر اربوں روپے بیکار منصوبوں کی نذر کرنے والوں کی سنگین غفلت کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے محض ”ڈنگ ٹپاؤ پالیسی” پر کام کیا اور آنے والی نسلوں کی بہتری کیلئے ایسا کوئی قابل عمل منصوبہ نہ بنایا کہ جس پر فخر کیا جا سکے رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ ہم زبانی جمع دعوؤں اور بیکار منصوبوں پر بہت وقت ضائع کر چکے ہیں اب ہمیں پاکستان کے اجتماعی اور قومی مفادات کے لئے فوری پالیسی وضع کرنا ہو گی۔ کیونکہ بدقسمتی سے وطن عزیز مختلف النوع مسائل میں گھر چکا ہے مہنگی بجلی عوام کے لئے عذاب بن چکی ہے ملکی انڈسٹری کو بتدریج تالے لگ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں