نئے شناختی کارڈ و تجدید کیلئے آنے والوں سے نادرا دفتر کے باہر بیٹھے پرائیویٹ افراد زائد فیس وصول کرنے لگے

جڑانوالہ(صابر گھمن سے)نادرا دفتر میں نئے شناختی کارڈ کے حصول و تجدید کیلئے آنیوالے شہریوں کو سرکاری فیس کی ادائیگی کیلئے نادرا دفاتر کے اندر کیش کانٹر کی سہولت دوبارہ شروع کی جائے،نادرا دفتر کے باہر بیٹھے پرائیویٹ افراد اصل فیس سے زائد پیسے وصول کرکے عوام کو روزا نہ ہزاروں روپے کا ٹیکہ لگانے کیساتھ ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنانے لگے،عوامی سماجی حلقوں کا وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی،وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ و سینیٹر طلال بدر چوہدری سے اس گھمبیر صورتحال کا فی الفور نوٹس لینے کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ میں نادرا دفتر کی آپ گریڈیشن کے بعد دفتر کو اندرون شہر سے شفٹ کرکے فیصل آباد روڈ پر منتقل کر دیا گیا تھا جہاں شہریوں کے بیٹھنے کیلئے کرسیاں اور پینے کیلئے پانی اور خصوصی افراد کیلئے اسپشل انتظامات کئے گئے مگر اسکے ساتھ ساتھ جڑانوالہ سمیت پورے پاکستان میں قائم نادرا دفاتر کے اندر نئے شناختی کارڈ کے حصول اور شناختی کارڈ کی تجدید کیلئے فیس وصولی کے لگے کیش کانٹر کو بھی ختم کر دیا گیا ہے جس پر نادرا دفاتر کے باہر پرائیویٹ افراد نے اپنے کانٹر لگا کر نئے شناختی کارڈ اور شناختی کارڈ کی تجدید کیلئے آنیوالے شہریوں سے شناختی کارڈ کی مقرر کردہ سرکاری فیس کے ساتھ اضافی پیسے وصول کرنے شروع کر رکھے ہیں پرائیویٹ افراد سرکاری فیس 750 روپے کی بجائے 800 سے 850 روپے تک پیسے وصول کرنے کیساتھ شہریوں بالخصوص معمر افراد مرد/خواتین کیساتھ مبینہ طور پر انتہائی ہتک آمیز سلوک اپناتے ہیں اور کئی کئی گھنٹے تک کھڑے رکھ کر انکی تذلیل کرتے دکھائی دیتے ہیں پرائیویٹ افراد کے لگائے کانٹر پر رش کے باعث لمبی لائنیں لگ جانے پر معمر افراد مرد/خواتین کو ذہنی اذیت سے بھی دوچار ہونا پڑ رہا ہے پرائیویٹ افراد کی جانب سے نئے شناختی کارڈ اور تجدید شناختی کارڈ کی فیس جمع کروانے والے شہریوں کیساتھ مبینہ طور پر بھیڑ بکریوں جیسا سلوک ناقابل برداشت ہے ذرائع کے مطابق جڑانوالہ نادرا دفتر میں روزانہ 400 سے 450 افراد روزانہ نئے شناختی کارڈ اور شناختی کارڈ کی تجدید کیلئے آتے ہیں جن پر سرکاری فیس کیساتھ 50 سے 100 روپے تک فی کس کے حساب سے اضافی رقم کی مد میں روزانہ 25 سے 30 ہزار روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑ چکا ہے جبکہ ماہانہ 5 لاکھ سے زائد اور سالانہ 70 لاکھ سے 80 لاکھ روپے تک کا بوجھ پڑنا شہریوں کیساتھ سراسر زیادتی کے زمرے میں آتا ہے جڑانوالہ نادرا دفتر میں آنیوالے سائلین پر مقرر کردہ سرکاری فیس سے اضافی رقم کی وصولی کی مد میں سالانہ 80 لاکھ روپے سے زائد کا اضافی بوجھ پڑنے پر شہریوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ و سینیٹر طلال چوہدری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ نادرا دفتر کے باہر پرائیویٹ افراد کو سرکاری فیس جمع کروانے کا سلسلہ فی الفور ختم کیا جائے اور جڑانوالہ سمیت پورے پاکستان میں دوبارہ نادرا دفاتر کے اندر شناختی کارڈ فیس وصولی کے کیش کانٹر کی سہولت بحال کی جائے تاکہ لائنوں میں لگنے کی بجائے شہریوں کو باعزت طریقے سے نئے شناختی کارڈ اور شناختی کارڈ کی تجدید کی نادرا دفاتر کے اندر ہی سہولت میسر ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں