31

وزیراعظم کے جرأتمندانہ مطالبہ کو خراج تحسین

فیصل آباد( سٹاف رپورٹر) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے سر پرست اعلی وصدر انجمن تاجران سٹی فیصل آباد خواجہ شاہدرزاق سکا، جنرل سیکرٹری شیخ سعیداحمد ڈپٹی سیکرٹری میاں ریاض شاہد اورسینئر رہنمائوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمدشہباز شریف نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ عرب واسلامک ممالک کے سربراہی اسرائیل کیخلاف مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میںجراتمندانہ موقف اختیار کرنے اور اقوام متحدہ سے اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کرکے پوری قوم کے جذبات کی عکاسی کی ہے جس پرانہیں جتنا خراج تحسین پیش کی جائے کم ہے خواجہ شاہدرزاق سکا نے غزہ میں برسوں سے محصورمظلوم مسلمانوں پر ایک عرصہ سے جاری اسرائیل کی بد ترین فضائی بمباری اورزمینی حملوں میںمعصوم بچوں سمیت 50 ہزار سے زائدشہریوں کی شہادت اوربے اندازہ تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرب واسلامک ممالک کے سربراہی سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں57 ملکوں کی تنظیم OIC اور عرب لیگ کے مشترکہ اجلاس سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو غزہ میں برسوں سے محصورمظلوم مسلمانوں کے دفاع کیلئے مثبت پیش رفت ہوئی ہے لیکن مسلمانوں کا اہم سوال ہے کہ اگر مظلوم فلسطینیوں اور غزہ میں شہید مسلمانوں سے غداری کرنے اور دہشتگرداسرائیل کا ساتھ دینے والی ظالم مغربی ریاستوں نے انکے مشترکہ اعلامیہ کواہمیت نہ دی توپھر انکا اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا ۔ خواجہ شاہدرزاق سکا جنرل سیکرٹری شیخ سعیداحمد ڈپٹی سیکرٹری میاں ریاض شاہد نے کہاکہ اجلاس میں اسرائیلی کاروائیوں کے خلاف کسی بھی قسم کے ردعمل کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے اور ظالم اسرائیل کے ظلم پر خامو ش تما شائی بنے بیٹھے رہنا مظلوم فلسطینیوں کو ظالم اسرائیل ہی کے رحم و کرم پر چھوڑنے ، اسرائیل کو اپنی جارحیت جاری رکھنے ،معصوم شہریوں کو قتل اور غزہ کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کی اجازت دینے کے مترادف ہے جس کی جتنی کی شدید مذمت کی جائے کم ہے ۔خواجہ شاہدرزاق سکانے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ فلسطینیوں پر جاری مظالم بندکروائے ، فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلوائے اور عالم اسلام مظلوم فلسطینیوں کیلئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے ،جنگی جرائم کے خاتمہ پر اتفاق اور فلسطین کا مسئلہ فلسطینیوں کے خواہش کے مطابق حل کیا جائے اور بیت المقدس کو فلسطین کا دار الحکومت بنایا جائے،غزہ کی زمینی بندش کوختم کیا جائے تاکہ دنیا کیلئے مظلوم فلسطینی عوام تک پانی خوراک اور ادویات پہنچانا ممکن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں