ٹرمپ کا ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرنیکا منصوبہ بے نقاب

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کیلئے سابق امریکی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کے دور صدارت میں اسرائیل میں امریکی سفیر تعینات تھے۔اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویو میں سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو نے کہا کہ صدر ٹرمپ آنے والے ہفتوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔سابق امریکی سفیر کا دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی سپریم لیڈر نے یہ الزام عائد کیا کہ ایران میں تشدد، مظاہروں اور قتل میں امریکی صدر ملوث ہیں۔ڈان شپیرو نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق کہا کہ اب وہ 86برس کے ہوچکے ہیں اور بیمار آدمی ہیں لہٰذا ایران کو اس وقت ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ جلد امریکا کا ایک بڑا بیڑا مشرق وسطی میں موجود ہوگا جو ایران پر حملے کو نہ صرف آسان بنائے گا بلکہ ایران کے جواب کی صورت میں دفاعی تیاریوں میں بھی مدد دے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانی فورسز پر مزید حملے کرسکتا ہے۔دریں اثنائ۔واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ سے متعلق سخت مقف اور یورپی ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر بے یقینی اور اتار چڑھائو کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا کو گرین لینڈ خریدنے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ یکم فروری سے آٹھ یورپی ممالک کی درآمدات پر 10فیصد اضافی ٹیرف عائد کریں گے، جو یکم جون سے بڑھا کر 25فیصد کر دیا جائے گا۔ ان ممالک میں ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، فن لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔ماہرین معاشیات کے مطابق اس اعلان سے یورو کرنسی دبائو کا شکار ہو سکتی ہے جبکہ عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی دیکھی جا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔یورپی رہنمائوں نے امریکی صدر کی اس دھمکی پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یورپی ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ٹیرف کی دھمکیاں یورپ اور امریکا کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور یہ ایک خطرناک تجارتی جنگ کو جنم دے سکتی ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا نے واقعی ٹیرف نافذ کیے تو یورپی یونین امریکا کے خلاف ایک خصوصی اور سخت معاشی ہتھیار استعمال کر سکتی ہے، جو اس سے قبل کبھی استعمال نہیں کیا گیا۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ان ٹیرف دھمکیوں کو غلطی قرار دیا ہے جبکہ نیدرلینڈز کے وزیر خارجہ نے اسے بلیک میلنگ سے تعبیر کیا۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی امریکی صدر سے جلد بات چیت کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ناروے کے وزیر اعظم نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا اور تمام فریقوں کو معاملہ سنجیدگی سے حل کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں