ٹماٹر کی فصل کو صنعتی آلودگی سے شدید خطرات

شینیانگ (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی معیشت کیلئے ایک اہم فصل، ٹماٹر، ایک سنگین خطرے کی زد میں ہے۔ سالانہ پیداوار 5 لاکھ 69 ہزار ٹن سے زائد ہونے کے باعث ٹماٹر نہ صرف لاکھوں چھوٹے کسانوں کی روزی کا ذریعہ ہیں بلکہ 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی برآمدی آمدن بھی فراہم کرتے ہیں تاہم اب اس اہم صنعت کو ایک نئے اور بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے اور وہ ہے بھاری دھاتوں کی آلودگی۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق پاکستان میں صنعتی سرگرمیوں، خصوصاً سیالکوٹ ، قصور اور لاہور جیسے شہروں میں قائم چمڑا سازی (ٹینریز) کی صنعتوں کے باعث آبپاشی نہروں اور زرعی زمین میں خطرناک دھاتیں شامل ہو رہی ہیں، جن میں کرومیم (Cr)، کیڈمیم (Cd) اور سیسہ (Pb) شامل ہیں جب یہ دھاتیں ٹماٹر کے پودوں میں جذب ہو جاتی ہیں تو یہ پھل کے قابلِ استعمال حصوں میں جمع ہو کر صارفین کیلئے سنگین طبی خطرات پیدا کرتی ہیں، جن میں سرطان جیسے اثرات بھی شامل ہیں۔بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان کے انسٹی ٹیوٹ آف مالیکیولر بایولوجی اینڈ بایوٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر طاہر نقاش نے چائنا اکنامک نیٹ کو بتایا کہ ٹماٹروں میں میٹل کی منتقلی کی صلاحیت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ فصل ان زہریلی دھاتوں کو اپنے اندر جمع کرنے کے لیے خاص طور پر حساس ہے۔ ان کے مطابق کسانوں کو پیداوار میں 50 فیصد تک نقصان اور پھل کے معیار میں نمایاں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ آلودگی کی سطح بین الاقوامی اداروں جیسے کوڈیکس الیمینٹیریس اور یورپی یونین کے مقررہ معیار سے تجاوز کر چکی ہے، جس سے پاکستان کے ٹماٹروں کی برآمدات کی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شینیانگ نررمل یونیورسٹی (SNU) کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام تیار کر رہے ہیں جس میں جراثیم (مائیکروبز) اور پودے مل کر مٹی سے زہریلے مادّوں کو ختم کریں گے، خاص طور پر کیڈمیم کو ہدف بنایا جائے گا جو صنعتی علاقوں میں ایک بڑی آلودگی کی وجہ ہے، ہمارا مقصد یہ ہے کہ کیڈمیم کو ٹماٹر کے پودے میں داخل ہونے اور اس کے پھل میں جمع ہونے سے روکا جائے۔ طاہر نقاش نے بتایا کہ گزشتہ سال کے اختتام پر شینیانگ نررمل یونیورسٹی میں منعقدہ ماحولیاتی اور گرین ڈیولپمنٹ سے متعلق تربیتی کیمپ میں شرکت کے دوران انہیں یہ نئی سوچ ملی کہ صرف بھاری دھاتیں مٹی سے نکالنا ہی کافی نہیں بلکہ بایوری میڈی ایشن کے بعد بچ جانے والی باقیات کے ساتھ کیا کرنا چاہیے، اس پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے وہاں یہ مشاہدہ کیا کہ ہم باقیات سے ہیوی میٹل دوبارہ نکال سکتے ہیں اور انہیں صنعتی پراسیسنگ کیلئے دوبارہ استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ٹماٹر کی کاشت تقریباً 61 ہزار ہیکٹر رقبے پر کی جاتی ہے، جو سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے بعض علاقوں میں مرکوز ہے۔ مٹی کی صفائی کے روایتی طریقے، جیسے کیمیائی مادّوں کا استعمال یا آلودہ مٹی کو کھود کر نکالنا، نہایت مہنگے، غیر مؤثر اور ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، اور اکثر اوقات ثانوی آلودگی کا سبب بنتے ہیں جبکہ مستقل حل فراہم نہیں کرتے۔طاہر نقاش نے کہا آلودہ زمین میں موجود مقامی مائیکروبی کمیونٹیز بایوری میڈی ایشن کے لیے ایک امید افزا راستہ فراہم کرتی ہیں،مقامی پودوں کی افزائش میں مدد دینے والے رائزوبیکٹیریا نے قدرتی طور پر ایسے موافق طریقہ کار اختیار کر لیے ہیں جن میں انزائم کے ذریعے دھاتوں میں کمی، خلیاتی دیواروں پر دھاتوں کا جذب ہونا اور ایسے مادّوں کی پیداوار شامل ہے جو دھاتوں کو باندھ کر ان کی زہریت کم کر دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زرعی باقیات سے تیار کردہ بایوچار ایک ماحول دوست جاذب مادّہ ہے جس کی سطح اور مسامیت زیادہ ہوتی ہے، اور یہ آئن کے تبادلے، کیمیائی کمپلیکس بنانے اور ٹھوس شکل میں تبدیل کرنے کے ذریعے بھاری دھاتوں کو غیر متحرک کر سکتا ہے، جب بایوچار کو آئرن آکسائیڈ کے ذریعے مقناطیسی نینو سائز میں تیار کیا جاتا ہے تو اس میں دھاتوں کو جذب کرنے کی رفتار بہتر ہو جاتی ہے، مقناطیسی طریقے سے اسے الگ کرنا ممکن ہو جاتا ہے اور یہ مائیکروبز کے لیے بہتر مسکن بھی فراہم کرتا ہے، جس سے دھاتوں کے دوبارہ مٹی میں شامل ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور استعمال کے بعد اس کی بازیابی بھی ممکن ہو جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں