پاکستان کا ایٹمی قوت بننا قومی سلامتی کی ضمانت ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وہ فقید المثال خواب تھا کہ جس کی تعبیر قوم کو یوم تکبیر کی صورت میں نظر آئی ۔ 18مئی 1974 کو بھارت نے جب راجھستان میں ایٹمی دھماکے کئے تو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسے پاکستان کی بقا، سالمیت اور استحکام کے بر خلاف قرار دیتے ہوئے وہ تاریخی الفاظ دہرائے کہ پاکستانی قوم گھاس کھا لے گی لیکن ایٹم بم ضرور بنائے گی اور اللہ کے فضل سے آج پاکستان دنیا کی چھٹی ایٹمی قوت بن کر عالمی منظر نامے پر اپنی دھاک بٹھا چکا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی سٹی فیصل آباد کے صدر رانا نعیم دستگیر خاں نے یوم تکبیر کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع کی خاطر جس کام کا آغاز بھٹو شہید نے 70کی دہائی میں شروع کیا تھا اسے محترمہ بینظیر بھٹو نے شمالی کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرکے مزید تقویت دینے ہوئے لافانی بنا ڈالا ۔ رانا نعیم دستگیر خاں نے مزید کہا کہ پاکستان کا ایٹمی قوت بننا نہ صرف قومی سلامتی اور خودمختاری کی ضمانت ہے بلکہ یہ اسلامی دنیا کے لیے بھی امید اور فخر کا نشان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج اگر ہم ایٹمی قوت نہ ہوتے تو ہندوستان خطہ کو عدم توازن کا شکار بنا کر کب کی اجارہ داری قائم کر چکا ہوتا ۔ انہوں نے 10مئی کو افواج پاکستان کی جانب سے ہندوستان کو دندان شکن شکست دینے پر خراج تحسین بھی پیش کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں