49

پنجاب حکومت کے تاریخ ساز فیصلے

لاہور (بیوروچیف) پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا 28 واں اجلاس ہوا جس میں130نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا اور اس کی منظوری دی گئی۔پنجاب کابینہ نے صوبے میں صنعتی ورکرز کے لئے1220فلیٹس دینے کی منظوری دی، لیبر کمپلیکس سندر، قصور، لیبر کالونی ٹیکسلا میں ورکرز کوقرعہ اندازی کے ذریعے فلیٹس ملیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے ورکرز سے فلیٹس کی قیمت وصول کرنے کی تجویز مسترد کر دی اور صنعتی ورکرزکے لئے مزید 3ہزار فلیٹس بنانے کے لئے فوری اقدامات کا حکم دیا۔پنجاب کابینہ نے ورکرز کی تنخواہ یکساں طور پر 40ہزار کرنے کی منظوری بھی دی۔صوبائی کابینہ نے ہنر مند، نیم ہنرمند اور دیگر 102 کیٹگری میں ورکرز کی تنخواہ یکساں طور پر 40ہزار کرنے کی منظوری دی۔مریم نواز نے فلڈ ڈیوٹی سرانجام دینے والے ریسکیو اہلکاروں کے لئے 50، 50ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا، کابینہ نے طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب کے دوران ریلیف کارروائیوں پر ریسکیو 1122کو سراہا۔صوبائی کابینہ نے پنجاب میں پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات سرکاری طور پر لینے کی منظوری دی، پانچویں کلاس کے طلبہ کا جائزہ (ASSESSMENT) اور آٹھویں گریڈ کے طلبہ کا باقاعدہ امتحان ہوگا۔ پنجاب کابینہ کے اجلاس میں ملازمین کی بیواں کو تاحیات پنشن دینے کی منظوری دے دی گئی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے 28 ویں اجلاس میں ایک اہم فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ صوبائی کابینہ نے ملازمین کی بیواں کو تاحیات پنشن دینے کی منظوری دے دی۔ اب صوبائی حکومت کے تمام ملازموں کی بیوہ خواتین کو ان کی زندگی کی آخری سانس تک ان کے مرحوم شوہر کی پینشن ملے گی اور وہ مرتے دم تک کسی کی محتاج نہیں ہوں گی۔ پنجاب کابینہ کے آج کے اہم اجلاس میں جیلوں میں قیدیوں کیلئے باقاعدہ انڈسٹری قائم کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے جیلوں میں قیدیوں کے لئے باقاعدہ انڈسٹری قائم کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ مزدوری کرنے والے قیدیوں کو اجرت بھی ملے گی، انہوں نے جیلوں میں مانیٹرنگ کا تھرڈ پارٹی سسٹم وضع کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پرسرمایہ کاری کے فروغ کے لئے تاریخی اقدام کیا گیا، پٹرول پمپس کے قیام کے لئے آن لائن ایپلی کیشن کی منظوری دی گئی، سرمایہ کاروں کو 16 کے بجائے صرف 6 دستاویزات پیش کرنے ہوں گی، آن لائن اپلائی کرکے سرمایہ کار آن لائن این او سی حاصل کر سکیں گے۔پنجاب میں پہلی مرتبہ ورکرز کی سیفٹی کے لئے جامع رولز کی منظوری دی، پنجاب ایکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ رولز2024 کی منظوری دے گئی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سیوریج اور تعمیراتی کام کرنے والے مزدوروں کی سیفٹی یقینی بنانے کا حکم دیا اور ورکرز کی سیفٹی یقینی بنانے کے لئے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو انفورسمنٹ فورس بنانے کی ہدایت دی۔کابینہ نے چائلڈ لیبر روکنے کے لئے پنجاب ریسکٹریکشن آن ایمپلائیمنٹ آف چلڈرن رولز 2024 کے مسودے کی منظوری دی۔اس کے علاوہ گورنمنٹ اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں خزانچی رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کی تعیناتی کا یکساں طریقہ کار نافذ کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔چیف منسٹر مریم نواز نے کہا کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں، ہر سطح پر عملدرآمد ضروری ہے، غریب ورکرز اور مزدوروں کی جان بھی قیمتی ہے، ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنائیں گے۔وزیراعلیٰ نے پنجاب بھر میں آڈٹ رپورٹس پر ضروری اقدامات اور مانیٹرنگ کی ہدایت کی۔کابینہ اجلاس میں وائس چانسلر کی تعیناتی کے لئے مارکیٹ سے ہایئرنگ کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔کابینہ نے وائس چانسلر کے لئے خصوصی ٹیسٹ میں کم از کم 80 فیصد مارکس حاصل کرنے کی منظوری بھی دی۔پنجاب کی سڑکوں پر اے آئی ٹریفک مینجمنٹ سسٹم 90دن کے اندر نافذ ہوجائے گا، کابینہ نے سڑکوں پر ایکسل روڈ مینجمنٹ سسٹم کا فوری نفاذ یقینی بنانے کا حکم دیا۔پنجاب کے 5 ڈویژنوں میں WATER AND SANITATION AUTHORITY واسا کے قیام کی منظوری دی گئی. مزید 13شہروں میں واسا قائم کیے جائیں گے۔نرسوں کے لیے سرکاری اسپتالوں میں پیڈ انٹرن شپ کی منظوری دی گئی۔ پنجاب میں کسان کارڈ کی شاندار کامیابی ہوئی جب کہ فیز 1 میں 99فیصد ریکوری ہوئی، 6 لاکھ 90ہزار کسانوں کو 93ارب روپے جاری کیے گئے۔ کاشتکاروں نے زرعی مداخل کے لئے 47 ارب روپے استعمال کر لیے۔کابینہ کے اجلاس میں اس بات پر اطمنان کا اظہار کیا گیا کہ وزیراعلیٰ کے ہائی ٹیک میکانزیشن کے تحت ٹریکٹر سازی کے نئے کارخانے قائم کیے گئے، حکومت پنجاب اور ڈیئر فانڈیشن انٹرنیشنل، ہوبارہ انٹرنیشنل فانڈیشن کے درمیان ایم او یو کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں مقامی پرندوں کے تحفظ کے لئے ریگولیٹری فریم ورک کی منظوری بھی دی گئی۔پنجاب کی کابینہ کے اجلاس میں پروونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی پی ڈی ایم اے کو دو ارب ساٹھ کروڑ روپے کے فنڈز سیلاب متاثرین کے لئے خرچ کرنے کی منظوری دی گئی۔صوبائی کابینہ نے ری اوٹ مینجمنٹ پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی، والڈ سٹی اتھارٹی میں تین نئی اسامیوں پر بھرتی کی منظوری دی گئی، پنجاب چیئریٹیز کمیشن میں بھرتیوں کے لئے پابندی میں نرمی کی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ نے فیک خیراتی اداروں کی اسکروٹنی اور ہر چار ماہ کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی، کابینہ نے پھاٹا کے بجٹ کی منظوری کااختیار، گورننگ باڈی کو دینے کی منظوری دی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پھاٹا کی مانیٹرنگ کا طریقہ کار وضح کرنے کی ہدایت کی۔ پنجاب انرجی ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے نئے ممبر کی نامزدگی، ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ایم آئی ایس سسٹم کے اسٹاف کی مدت ملازمت میں تین ماہ توسیع کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ کو اسکول ونگ کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔کابینہ نے مختلف اداروں میں ملازمین کی بھرتی، سیمنٹ پلانٹس کے این او سی کی تاریخ تنسیخ میں توسیع، اسپورٹس بورڈ پنجاب کی تشکیل نو کے لئے ترمیم کی منظوری دی گئی۔ پنجاب کابینہ کے آج کے اجلاس میں اہم مہمان شخصیات کی سیکیورٹی کویقینی بنانے کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی بھی منطوری دی گئی۔پنجاب ڈرگ رولز میں ترمیم، پنجاب انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن ایکٹ2025 کے تحت PEECA کے قیام، ٹیلی کام سیکٹر کو سرکاری اراضی لیز پر دینے کے لئے اقدامات،گنے پر ریسرچ کے لئے قیام شوگر کین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ ایکٹ 2025، کلینکل اور نان کلینکل اسامیوں پر بھرتی کے لئے پنجاب لوکل ریکروٹمنٹ ایکٹ 2025 کی منظوری بھی دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں