چاول کی برآمدات55لاکھ ٹن تک رہنے کا امکان

اسلام آباد (بیوروچیف) اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں گندم کی کاشت میں 6.5فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے پیداوار 2 کروڑ90لاکھ ٹن رہنے کا امکان ہے رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق پاکستان میں گندم کی پیداوار 2025میں باضابطہ طور پر 2کروڑ 90لاکھ ٹن تخمینہ لگائی گئی ہے، جو پانچ سالہ اوسط سے تقریبا 5 فیصد زیادہ ہے، تاہم گزشتہ سال کے مقابلے میں گندم کی کاشت کا رقبہ 6.5 فیصد کم ہو گیا ہے۔فوڈ اینڈ ایگریکلچر کے گلوبل انفارمیشن اینڈ ارلی وارننگ سسٹم (جی آئی ای ڈبلیو ایس) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کاشت کے رقبے میں کمی کی وجہ مئی 2024سے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کا خاتمہ اور کاشت کے وقت مقامی سطح پر گندم کی کم قیمتیں ہیں، جس کے باعث کچھ کسانوں نے زیادہ منافع بخش نقد آور فصلوں مثلا تیل دار بیج، مصالحہ جات اور سبزیوں کی کاشت کی طرف رخ کیا۔رپورٹ کے مطابق آبپاشی والے علاقوں میں فی ایکڑ پیداوار اوسط سے زیادہ رہنے کا امکان ہے، لیکن بارانی علاقوں میں خشک موسم کے باعث فصل کو نقصان پہنچا، جو گندم کی کل کاشت کا تقریبا 20فیصد ہیں۔اس کے علاوہ شمالی علاقوں کے کچھ حصوں میں آبپاشی کے پانی کی کمی کے باعث بھی نقصان ریکارڈ ہوا۔ 2025کی دھان کی کاشت اگست کے اوائل میں مکمل ہوئی، کچھ علاقوں میں کسانوں کو جون سے اگست کے اوائل تک شدید مقامی سیلاب کے بعد دوبارہ کاشت کرنا پڑی، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے خاص طور پر شمالی اور شمال مغربی علاقوں، خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کچھ حصوں کو متاثر کیا، جس کے باعث مقامی سطح پر فصلوں کو نقصان اور زرعی روزگار میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024-25 کے مارکیٹنگ سال میں گندم کی درآمدات پانچ سالہ اوسط کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہیں کیونکہ جولائی 2024 میں گندم کی درآمد پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔رواں سال حکومت نے گندم کے آٹے، درآمدی گندم سے تیار کردہ آٹے، گندم کی مصنوعات، باریک آٹے اور سوجی کی برآمدات پر بھی پابندی عائد کردی تھی، جو اگست 2025 کے اوائل تک برقرار ہے۔ملک کی سب سے بڑی برآمدی اناج چاول کی برآمدات 2025 میں ابتدائی طور پر 55 لاکھ ٹن کے لگ بھگ رہنے کا امکان ہے، اسی طرح مکئی کی برآمدات 26-2025 کے مارکیٹنگ سال میں اوسطا 5 لاکھ ٹن رہنے کا تخمینہ ہے۔ملک کی سب سے اہم غذائی شے گندم کے آٹے کی مقامی قیمت مارچ 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان تقریبا 50 فیصد کم ہوئی، قیمتوں میں کمی کی وجہ مارکیٹ میں وافر دستیابی ہے جو مسلسل اچھی فصلوں اور 24-2023 میں بڑے پیمانے پر درآمدات کے باعث ممکن ہوئی، اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے 2024 سے کسانوں سے کم از کم امدادی قیمت پر گندم خریدنے کے عمل کو ختم کرنے کے فیصلے کا بھی اثر ہوا۔کم از کم امدادی قیمت کا خاتمہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 2024 میں منظور کردہ 7 ارب ڈالر کے بیل آٹ پیکیج کی شرائط کے تحت معاشی اصلاحات کے وسیع تر منصوبے کا حصہ تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں