ڈرائونی فلمیں ڈر پیدا کرتی ہیں

کراچی ( بیو رو چیف )ڈراؤنی فلمیں دماغ پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں؟سائنس دانوں نے بتا دیاہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ڈرانی فلمیں، چیخیں، خون اور خوفناک مناظر صرف گھبراہٹ اور ڈر پیدا کرتے ہیں۔ مگر ماہرین نفسیات کے مطابق یہی فلمیں جن سے ہم خوف کھاتے ہیں دراصل ذہنی دبا ؤاور بے چینی کم کرنے کا ایک موثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جب ہم خوفزدہ ہوتے ہیں تو دماغ میں فائٹ یا فلائٹ کا ردِعمل پیدا ہوتا ہے یعنی یا تو خطرے کا مقابلہ کریں یا بھاگ جائیں لیکن جب ہم یہ خوف محفوظ ماحول میں محسوس کرتے ہیں جیسے کسی فلم کے دوران تو دماغ دراصل خطرے سے نمٹنے کی مشق کر رہا ہوتا ہے۔آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی اور ٹورنٹو یونیورسٹی کے محقق مارک ملر کے مطابق یہ ایک پرانا فلسفیانہ تضاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم فطری طور پر خوفناک چیزوں سے بچنے کے لیے بنے ہیں لیکن پھر بھی انہی کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔کتاب موبیڈلی کیوریئس کے مصنف امریکی ماہر نفسیات کولٹن اسکریونر کا کہنا ہے کہ خوفناک کہانیاں ہمیں غیر یقینی حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار کرتی ہیں۔ان کے مطابق خوف ایک نفسیاتی تربیت ہے جیسے جانور خطرہ دیکھ کر سیکھتے ہیں کہ کب بھاگنا ہے ویسے ہی انسان خوفناک کہانیوں سے سیکھتا ہے کہ غیر متوقع خطرات کا سامنا کیسے کرنا ہے۔ان کی تحقیق میں 400 افراد نے حصہ لیا جنہیں ان کے خوف برداشت کرنے کے انداز کے لحاظ سے 3 گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایڈرینالین جنکیز وہ جو خوف سے لطف اٹھاتے ہیں، وائٹ نکلرز جو ڈر کو برداشت کر کے اپنے حوصلے کو پرکھتے ہیں اور ڈارک کوپرز جو ڈرانی فلموں کو حقیقی زندگی کے دبا سے نمٹنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں