کاشتکاری کیلئے پانی کی قلت برقرار

اسلام آباد (بیوروچیف) برسات میں بے تحاشا پانی آنے، تمام ڈیم لبالب بھر جانے کے بعد بھی پاکستان میں کاشت کاری کیلئے پانی کی قلت برقرار ہے۔ قلت سندھ اور پنجاب میں برابر تقسیم ہو گی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو ان کے حصہ کا طے شدہ پانی پورا ملے گا۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی ایڈوائزری کمیٹی نے ربیع کی فصلوں کی کاشت کیلئے صوبوں کے درمیان پانی کے دستیاب ذخائر کی تقسیم کی منظوری دے دی۔ ب ربیع کے دوران فصلوں کے لئے پانی کی 8فیصد قلت کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو گزشتہ 10 سالوں میں کاشتکاری کیلئے دستیاب پانی کی کم ترین قلت ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کے بعد ارسا کے ترجمان نے بتایا کہ ربیع کیلئے صوبوں کے دریامن پانی کی تقسیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔ترجمان خالد ادریس نے بتایا کہ ارسا ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس چیئر مین صاحبزادہ محمد شبیر کی زیر صدارت ہوا جس میں ربیع سیزن کیلئے دستیاب پانی کی صوبوں میں تقسیم کا طے شدہ فارمولا کے مطابق حساب کیا گیا تو ذخائر اور دریاں میں آنے والے دنوں میں آنے والے پانی کو ربیع کی فیصلوں کے لئے درکار پانی کی نسبت 8 فیسد کم پایا گیا۔ ارسا ایڈوائزری کمیٹی نے پانی کی تقسیم کی منظوری دی اور یہ طے کیا کہ آٹھ فصیل قلت کو سندھ اور پنجاب کے درمیان برابر تقسیم کیا جائے گا۔ خالد ادریس نے بتایاکہ ربیع میں پانی کی 8 فیصد کمی کا تخمینہ ہے، پانی کی کمی پنجاب اورسندھ میں برابرتقسیم ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں کمیٹی کیتمام ارکان شریک تھے، صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملات خوش اسلوبی سے طے ہوئے۔ ربیع کیلئے کل 3کروڑ 38لاکھ 10ہزار ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہو گا جس میں سے پنجاب کو ایک کروڑ 82 لاکھ ایکڑفٹ اور سندھ کو اس کے حصے کیمطابق ایک کروڑ 37 لاکھ ایکڑفٹ پانی ملے گا،بلوچستان کو 11لاکھ 70ہزار ایکڑ فٹ اور خیبر پختونخوا کو 7 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ملے گا۔ترجمان کے مطابق سیلاب کی وجہ سے گزشتہ کچھ مہینوں میں پانی کا استعمال کم رہا۔ پانی کو دستیاب سہولت (ڈیموں) میں زیادہ سے زیادہ حد تک بھرا گیا اور 30 ستمبر 2025 تک ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ سٹوریج صلاحیت کے 99 فیصد (عملاً لبالب) تھا۔آبی وسائل سے متعلق مسائل کو سمجھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ غیر معمولی برسات کے بعد کاشتکاری کی آئندہ چند ماہ کی ضرورت کے لئے بھی پانی کا پورا نہ ہونا اس پہلے سے معلوم حقیقت کی دوبارہ نشاندہی کر رہا ہے کہ پاکستان میں ضرورت کے مطابق آبپاشی کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیم ناکافی ہیں اور پاکستان کو مزید ڈیم تعمیر کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ سال برسات اگر بہت ہوئی تب بھی موجودہ برسات جتنی نہیں ہو پائے گی، آئندہ سال بھی ربیع کی کاشت کاری کے لئے پانی کی قلت برقرار رہے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قلت تب تک برقرار رہے گی جب تک پاکستان دریاں میں برسات کے دوران آنے والے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے نئے ڈیم تعمیر نہیں کرتا اور موجودہ نہری نظام میں پانی کی بے تحاشا سیپیج سے ہونے والے زیاں پر خاطر خواہ قابو نہین پاتا۔ اس سیپیج کو روکنے کے لئے تمام چھوٹی آبی گزرگاہوں کو پکا کرنا ضروری ہے جس پر بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں