کرپٹو کرنسی کا بغیر لائسنس کام کرنے پر10کروڑ جرمانہ،7سال قید ہوگی

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی اور ورچوئل اثاثوں کے حوالے سے طویل عرصے سے موجود قانونی خلا کو پر کرنے کے لیے ورچوئل اثاثہ آرڈیننس کا مسودہ تیار کر لیا گیا ۔ اس تاریخی اقدام کا مقصد ملک میں کرپٹو کرنسی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ریگولیٹ کرنا، سرمایہ کاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور منی لانڈرنگ جیسے خطرات کا سدباب کرنا ہے ۔ بل کے تحت پاکستان میں کام کرنے والی تمام کرپٹو ایکسچینج اور سروس فراہم کرنے والے اداروں کے لیے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ بغیر لائسنس کے کام کرنے والے اداروں کو 10 کروڑ روپے تک جرمانہ اور 7 سال تک قید کی سخت سزائیں دی جا سکیں گی۔آرڈیننس کی ایک نمایاں خصوصیت \’شریعہ ایڈوائزری کمیٹی\’ کا قیام ہے جو اسلامی اصولوں کے مطابق کرپٹو مصنوعات کی تصدیق کرے گی تاکہ پاکستان کی مذہبی اقدار کے مطابق مالیاتی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے ۔ مزید برآں صارفین کے اثاثوں کو کمپنی کے اپنے فنڈز سے الگ رکھنا اور \’پروف آف ریزرو\’ دکھانا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی دیوالیہ پن کی صورت میں عوام کا پیسہ محفوظ رہے ۔لائسنس یافتہ ادارے ایف بی آر (FBR) کو رپورٹنگ کرنے اور ٹیکس ودہولڈنگ کے پابند ہوں گے ۔ یہ اقدام پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے عالمی معیارات کے مطابق لانے میں مددگار ثابت ہوگا جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی مالیاتی ساکھ بہتر ہوگی۔حکام کا مقف ہے کہ پاکستان اس شعبے میں اپنے علاقائی حریفوں سے پیچھے رہ رہا تھا۔یہ آرڈیننس نہ صرف ٹیکنالوجی کی جدت کو فروغ دے گا بلکہ دھوکہ دہی اور فراڈ سکیموں کے ذریعے عوام کو لٹنے سے بھی بچائے گا۔ سینیٹ کی کابینہ کمیٹی میں بل کی ملکیت پر تنازع کھڑا ہو گیا ،سینیٹر سلیم مانڈی والا نے کہا کہ وزارت خزانہ یا ریگولیٹر اس بل کی وضاحت کرنے سے ہی قاصرہیں۔سینیٹر سلیم مانڈی والا نے انکشاف کیا کہ جامع قانون سازی کے بغیر لوگوں کو لائسنس بھی جاری کر دئیے گئے جبکہ سینیٹر افنان اللہ کہتے ہیں کہ سزاں کو ختم کر دیا جائے تو ہر کوئی بغیر کائسنس کے کام کرے گا اور کرپشن بڑھے گی لہذا بل میں سزاں کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ ورچوئل آرڈیننس کی مدت 3 مارچ کو ختم ہو جائے گی ، اس سے پہلے متعلقہ بل کو ٹیبل کرنا ضروری ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں