چنیوٹ(نامہ نگار)پنجاب فوڈ اتھارٹی نے فوڈ فراڈ مافیا اور انسانی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چنیوٹ کے علاقے لاڑیانوالہ میں گدھے کا گوشت تیار کرنیوالے ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ ڈائر یکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ہدایات پر ڈپٹی ڈائریکٹر چنیوٹ کی سربراہی میں کی جانے والی کارروائی کے دوران تقریبا 50کلو گرام مشتبہ گوشت برآمد کرکے تلف کر دیا گیا، جبکہ واقعے میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق برآمد شدہ گوشت کا ویٹرنری ڈاکٹر کی جانب سے تفصیلی معائنہ کیا گیا، جس کے بعد اسے گدھے کا گوشت قرار دیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ مذکورہ گوشت حرام اور انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ پایا گیا، جسے فوری طور پر تلف کر دیا گیا تاکہ اسے عوام تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ فوڈ اتھارٹی کی جانب سے واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، جبکہ مزید حقائق سامنے لانے کے لیے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی منصور احمد نے کہا کہ عوام کی صحت اور سلامتی ہر صورت مقدم ہے اور خوراک میں ملاوٹ، جعلسازی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے لیے کوئی رعایت نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت دشمن مافیا کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کو معیاری، محفوظ اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔




