گرفتار ملزم فوجی مقصود کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر لواحقین سراپا احتجاج

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) تھانہ سٹی تاندلیانوالہ کے مقدمہ نمبر 21/25 میں گرفتار ملزم فوجی مقصود کی عدالت میں پیشی نہ ہونے پر لواحقین نے فیصل آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ فوجی مقصود کا نام ابتدائی ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا، بعد ازاں اسے بے بنیاد طور پر نامزد کر کے گرفتار کیا گیا، لیکن گرفتاری کے تین روز بعد بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔فوجی مقصود کے اہل خانہ، جن میں والدہ حیات بی بی، بھائی محمد نواز، اہلیہ، بچے اور دیگر عزیز شامل تھے، نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی جانب سے ملزم کو ماورائے عدالت قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالف پارٹی سے مبینہ ساز باز کے تحت پولیس فوجی مقصود کو جعلی پولیس مقابلے میں مارنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔پریس کانفرنس میں لواحقین نے دعوی کیا کہ پولیس پہلے ہی مقدمے میں بیس افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیج چکی ہے، ایسے میں فوجی مقصود کی گرفتاری ناقابل فہم ہے۔ لواحقین کے مطابق مخالف فریق نے ان کے چھ افراد کو قتل کیا ہے، تاہم اس پارٹی سے تعلق رکھنے والا مرکزی ملزم عمران سکھیرا تاحال اشتہاری ہے اور چاکرے وٹو کی پناہ میں چھپا ہوا ہے، جبکہ پولیس اسے گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔ مذکورہ اشتہاری ان کے خاندان کو مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے۔لواحقین کا کہنا تھا کہ اگر فوجی مقصود کو فوری طور پر عدالت میں پیش نہ کیا گیا اور اس کی جان کو کوئی نقصان پہنچا، تو اس کی والدہ، اہلیہ اور بچے وزیر اعلی ہاس کے سامنے خود سوزی کرنے پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور صدر پاکستان آصف علی زرداری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور فوجی مقصود کو عدالت کے روبرو پیش کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں