50لاکھ خاندان زراعت کے شعبہ سے منسلک ہیں

جڑانوالہ(نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر کسان روڈ کارواں جڑانوالہ پہننے پر امیر صوبہ پنجاب حافظ نعیم الرحمن نے نائب امیر وسطی صوبہ پنجاب رانا عبدالوحید،صدر کسان بورڈ پاکستان سردار ظفر حسین خان،جنرل سیکرٹری صوبہ پنجاب ڈاکٹر بابر رشید,امیر جماعت اسلامی فیصل آباد محبوب زمان بٹ،تحصیل صدر کسان بورڈ طاہر خان منج،امیر جماعت اسلامی جڑانوالہ ڈاکٹر سعید،صدر الخدمت فانڈیشن رانا عتیق الرحمن ایڈووکیٹ،سابق صدر بار رانا محفوظ خان ایڈووکیٹ، سابق امیدوار صوبائی اسمبلی باسم سعید چوہدری،صدر سیاسی کمیٹی رانا سلطان محمود خاں،وکلا اور شہریوں سے اسسٹنٹ کمشنر دفتر کے سامنے لگائے کسان روڈ کارواں کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پاکستان کی 70 فیصد غذائی ضروریات پوری کرتا ہے اور 50 لاکھ خاندانوں زراعت کے شعبہ سے منسلک ہیں 2 سالوں سے موجودہ حکومت جو پی ڈی ایم کا تسلسل ہے پنجاب کی زراعت کو تباہ کرنے پر درپے ہیں اور قوم کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیا گیا ہے پاکستان کا ہر بچہ 3 لاکھ کا مقروض ہو چکا ہے اور ملک 92 ہزار ارب کا مقروض ہو چکا ہے مگر حکمران طبقہ کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے جاوید قصوری نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف گندم اور گنے کے رپٹ طے کر رہی ہے کسان کو زمین بوس کر دیا گیا ہے شوگر مافیا حکومت میں موجود ہے شوگر ملوں نے کسانوں کے اربوں روپے دبا رکھے ہیں اگر حکومت نے اپنی پالیسیاں تبدیل نہ کریں تو 2026 تک پاکستان غذائی قلت کا شکار ہو سکتا ہے سیلاب زدہ علاقوں میں 20 ہزار فی ایکٹر کی بجائے اب 10/10 ہزار روپے دئیے جا رہے ہیں پنجاب حکومت اشتہارات پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ملک میں تبدیلی نہیں لا سکتی ہے بدقسمتی سے پی ٹی آئی نے جو دعوے کئے تھے وہ بھی پورے نہیں کر پائی ملک میں چند خاندانوں کی حکومت ہے جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی اور کسانوں کے حقوق کی جنگ جاری رکھے گئی موجودہ حکومت نے کسانوں کے جائز مطالبات پورے نہ کئے تو 21.22.23 نومبر کو جماعت اسلامی مینار پاکستان کے سائے تلے پاور شو کرے گی اور امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن لائحہ عمل دیں گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں