6 گھنٹے سے کم نیند سے جسم پر مرتب ہونیوالے اثرات

لاہور (بیوروچیف) کیا آپ کو معلوم ہے کہ اگر آپ روزانہ 6 گھنٹے سے کم سونے کے عادی ہیں تو اس کے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟یقین کرنا مشکل ہوگا مگر یہ ایک عادت متعدد امراض کا شکار بناسکتی ہے جبکہ دیگر مسائل الگ ہیں۔یہ بتانیکی ضرورت نہیں کہ موجودہ عہد میں اسمارٹ ڈیوائسز کے باعث لوگ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوچکے ہیں جس کے باعث نیند کا دورانیہ گھٹ رہا ہے۔تو 6 گھنٹے سے کم نیند کے جسم پر مرتب اثرات کے بارے میں جان لیں۔بے خواب راتوں کے نتیجے میں چڑچڑے پن اور جذباتی پن کی شکایت عام ہوجاتی ہے۔ایک طبی تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی سے منفی جذبات بڑھتے ہیں جس کا نتیجہ چڑچڑے پن کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ دفتر کے اندر بھی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔نیند کی کمی کے شکار افراد کو اکثر سر درد کا سامنا بھی ہوتا ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق نیند کی کمی سے دماغ کی تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے، تنا کا باعث بننے والے ہارمون کی سطح بڑھتی ہے جبکہ خون کا بہا متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سر درد یا مائیگرین کا سامنا ہوتا ہے۔نیند کی کمی سے جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ بڑھتا ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق نیند کی کمی سے بھوک اور کھانے کی خواہش میں اضافہ ہوتا ہے جس سے جسمانی وزن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 6 گھنٹے سے کم وقت کی نیند سے موٹاپے کا خطرہ 30 فیصد بڑھ جاتا ہے۔بے خوابی کے شکار افراد میں زیادہ چربی اور چینی والی غذاں کی خواہش بڑھ جاتی ہے اور یہ غذائیں موٹاپے کا باعث بنتی ہیں۔نیند کی کمی سے بینائی کی کمزوری اور دھندلے پن کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کی کمی کے باعث خشک آںکھوں کا خطرہ بڑھتا ہے جس سے بینائی کمزور ہوسکتی ہے۔نیند کی کمی کے نتیجے میں امراض قلب، ہارٹ اٹیک، دل کی دھڑکن کی رفتار میں بے ترتیبی، ہائی بلڈ پریشر، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔ جب نیند پوری نہ تو جسمانی ردعمل کی رفتار بھی گھٹ جاتی ہے۔ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو فوری فیصلے کرنے کے ٹاسک دئے گئے، جن میں سے کچھ کو ٹیسٹ کے دوران سونے کی اجازت دی گئی جبکہ دیگر کو نہیں۔جن کو سونے کا موقع ملا انہوں نے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھائی جبکہ دیگر افراد کی کارکردگی بدتر اور ردعمل بہت سست رہا۔نیند کی کمی سے جسم کی امراض سے لڑنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آپ بہت آسانی سے کسی بھی بیماری کے شکار ہو جاتے ہیں۔محققین نے نیند اور مدافعتی نظام کے درمیان ایک تعلق کو دریافت کیا ہے اور جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو نیند کی کمی کا دورانیہ بھی بڑھ جاتا ہے۔تو اس کی ایک بڑی وجہ نیند کی کمی ہوسکتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق نیند کی کمی سے ذہن غنودگی میں رہتا ہے اور توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔نیند کی کمی کے نتیجے میں وقت گزرنے کے ساتھ ڈپریشن کی علامات کا خطرہ بڑھتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈپریشن یا انزائٹی کے مریض عموما ہر رات 6 گھنٹے سے کم سونے کے عادی ہوتے ہیں۔ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بے خوابی کے شکار افراد میں ڈپریشن کی تشخیص کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ڈپریشن کے شکار افراد کے لیے سونا مشکل ہوتا ہے تو نیند کی کمی کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔معدے میں سوجن کے امراض نیند کی کمی کے نتیجے میں بدتر ہوجاتے ہیں۔7 سے 8 گھنٹے کی نیند پیٹ کے امراض سے کافی حد تک تحفظ فراہم کرتی ہے مگر نیند کی کمی سے ان امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔نیند کے دوران ہمارا جسم میٹابولزم میں آنے والی خرابیوں کو دور کرتا ہے تاہم زیادہ وقت جاگ کر گزارنے کے نتیجے میں انسولین کی حساسیت گھٹ جاتی ہے۔انسولین کی حساسیت میں کمی سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھتا ہے۔ایک تحقیق میں کم سونے کو معمول بنانے اور ذیابیطس کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی۔محض چند راتوں کو کم سونے سے آنکھوں کے اردگرد سیاہ حلقے نمایاں ہو جاتے ہیں جبکہ وہ پھول بھی جاتی ہیں۔مگر ہر رات 6 گھنٹے سے کم نیند کو عادت بنا لیا جائے تو چہرے پر جھریاں بھی ابھرنے لگتی ہیں جبکہ جِلد کی لچک گھٹ جاتی ہے۔تحقیقی رپورٹس کے مطابق ناکافی نیند سے جسم میں تنا کا باعث بننے والے ہارمون کورٹیسول کا اخراج ہوتا ہے اور اس سے جِلد کی صحت متاثر ہوتی ہے۔درمیانی عمر میں نیند کی کمی سے دماغی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں جو کہ طویل المعیاد یاداشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ سوتے ہیں ان کی یاداشت بھی اچھی ہوتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق مناسب نیند سے محرومی کے نتیجے میں بانجھ پن کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، خاص طور پر اگر خواتین 7 گھنٹے سے کم ہونے کی عادی ہوں تو ان میں حمل ٹھہرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیںتحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند جسمانی ہارمون نظام پر اثرانداز ہوتی ہے اور بہت کم نیند سے خواتین کا ہارمون نظام متاثر ہوتا ہے جس سے بانجھ پن کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ایک دوسری تحقیق میں یہی بات مردوں کے بارے میں بھی سامنے آئی کہ کم نیند کے نتیجے میں اولاد سے محرومی کا خدشہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر چھ گھنٹے سے کم نیند سے یہ خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔اگر دماغ کو وہ توانائی نہیں ملتی جو نیند سے حاصل ہوتی ہے تو اس کے حصول کے لیے وہ خوراک کو ذریعہ بناتا ہے۔نیند کی کمی کے نتیجے میں بھوک بڑھانے والے ہارمون گیرلین بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور ہمارا جسم چکنائی اور میٹھے کی زیادہ خواہش کرنے لگتا ہے۔نیند کی کمی سے بھوک کو کنٹرول کرنے والے ہارمون کی سطح گھٹ جاتی ہے اور لوگ ضرورت سے زیادہ کھانے لگتے ہیں۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیند کی کمی کے نتیجے میں نوجوان سماجی طور پر لوگوں سے گھلنے ملنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں جبکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ دنیا سے کٹ کر الگ تھلگ ہوچکے ہیں۔حالات اس وقت مزید بدتر ہوجاتے ہیں جب تنہائی محسوس کرنے والے افراد نیند پوری کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔متعدد تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ نیند کے دوران دماغی صفائی کا عمل مکمل ہوتا ہے اور ایسے پروٹین کا اخراج ہوتا ہے جن کو الزائمر امراض سے منسلک کیا جاتا ہے۔نیند کی کمی سے بتدریج اس پروٹین کی مقدار بڑھنے لگتی ہے اور نیند سے بھی صفائی مشکل ہوجاتی ہے، نیند کا شیڈول جتنا خراب ہوگا، الزائمر امراض کا خطرہ اتنا ہی زیادہ بڑھ جائے گا۔نیند کی کمی سے ہارمونز کے نظام میں تبدیلیاں آتی ہیں اور جسم کے لیے مسلز بنانے اور کمزوری دور کرنا مشکل تر ہوتا جاتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیند کے دوران جسم میں نشوونما بڑھانے اور نقصان کی مرمت کرنے والے ہارمون کا اخراج بڑھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فٹنس ماہرین بھی جسم بنانے کے شوقین افراد کو مناسب نیند کا مشورہ دیتے ہیں۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر رات 6 گھنٹے سے کم وقت سونے کے عادی افراد میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ دگنا بڑھ جاتا ہے۔یہ تحقیق 10 ہزار افراد پر 2 دہائیوں تک جاری رہی تھی جس کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں