8بازاروں کو وہیکل فری بنانیکا منصوبہ ،ٹریفک پولیس کیلئے کمائی کا ذریعہ بن گیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد کے 8بازاروں کو وہیکل فری بنانے کا منصوبہ ٹریفک پولیس نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا، وارڈنز لوڈر ومال بردار گاڑیوں’ رکشوں کو بازاروں میں داخلہ کی اجازت دیتے ہوئے ہزاروں روپے وصول کرنے لگے۔ تفصیل کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے فیصل آباد کو تجاوزات سے پاک کرنے اور تاریخی گھنٹہ گھر اور اس کے 8بازاروں کو وہیکل فری بنانے کا منصوبہ بنایا۔ سابق ڈپٹی چیف آفیسر عظمت فردوس نے 8بازاروں میں انسداد تجاوزات مہم کے دوران پختہ تجاوزات کو مسمار جبکہ دکانداروں کو اپنا سامان دکانوں کے اندر رکھنے کا پابند بنایا اور 8بازاروں کے راستوں کو بیریئر لگوا کر بند کر دیا۔ صرف پیدل چلنے والوں کو بازاروں میں داخلہ کی اجازت دی گئی۔ تاہم بعدازاں تاجروں اور دکانداروں کے اصرار پر دکانداروں کا سامان لانے اور لے جانے کیلئے مال بردار گاڑیوں’ رکشوں کو مخصوص وقت کیلئے پرچی دی جانے لگی کہ وہ سامان اتار کر فوراً واپس آ جائے۔ 8بازاروں کو وہیکل فری بنانے پر کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں اور بازاروں میں کام ٹھپ ہو کر رہ گیا جس پر تاجر سراپا احتجاج بھی بنے، تاہم 8بازاروں میں مال بردار گاڑیوں اور رکشوں کو داخلہ کی اجازت ٹریفک پولیس کے ذمہ لگی تو ڈیوٹی پر موجود ٹریفک وارڈنز نے اسے کمائی کا ذریعہ بنا لیا۔ مال بردار گاڑیوں اور لوڈر رکشوں وغیرہ سے ہزاروں روپے وصول کرنے لگے۔ بڑی گاڑی سے 7سے 10ہزار اورلوڈر رکشہ کو 2سے 5ہزار کے ریٹ مقررہ کر رکھے ہیں۔ جس پر تاجر برادری اور ڈرائیورز نے آر پی او’ سی پی او’ سی ٹی او اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ لوڈر گاڑیوں سے لوٹ مار کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں