عالمی مندوبین کی منرلز انویسٹمنٹ فورم میں گہری دلچسپی

اسلام آباد(بیوروچیف) ملکی معدنیات سے معیشت کو ترقی دینے کا مشن، پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025کا دوسرا روز جاری ہے۔پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کے پہلے روز وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر صنعت و تجارت جام کمال، وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک ودیگر نے خطاب کیا۔دنیا بھر کے مندوبین کو پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی، جس پر امریکا، چین، سعودی عرب، روس اور دیگر مکوں کے مندوبین نے دلچسپی کا اظہار کیا۔دوسرے روز پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں ریکوڈک مائننگ کمپنی کے نمائندے رسل ہاورڈ اوون نے منصوبے کی فزیبلٹی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کے علاقے چاغی میں ہے، منصوبہ معدنیات کی کان کنی کے شعبے میں پاکستان کو دنیا نے نقشے پر اہم ملک کے طور پر سامنے لایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک معدنیات 286 کلو میٹر کے علاقے پر محیط ہیں، منصوبے کی 19کلو میٹر رقبے پر جیو تکنیکی ڈرلنگ ہو چکی ہے، منصوبے کی جیوکیپٹل ڈرلنگ بھی ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر موجود ہیں، ریکوڈک میں 5.9ارب ٹن کے معدنی ذخائر موجود ہیں، منصوبے کے پہلے مرحلے کی فزیبلٹی سٹڈی کی منظوری دی جا چکی ہے، منصوبے کے پہلے مرحلے پر رواں سال کام شروع ہوگا، 2028 میں منصوبے سے سونے اور تانبے کی پیداوار حاصل ہونا شروع ہوگی۔رسل ہاورڈ کا کہنا تھا کہ فزیبلٹی سٹڈی میں ریکوڈک میں تانبے کے ایک کروڑ 50لاکھ ٹن اور سونے کے 2کروڑ 60لاکھ اونس ذخائر کا پتہ چلا ہے، 2028 سے ریکوڈک کان سے 2لاکھ 40ہزار ٹن تانبا اور 3لاکھ اونس سونا سالانہ نکالا جائے گا، ریکوڈک کان سے دوسرے مرحلے میں 4لاکھ ٹن تانبا ار 5لاکھ اونس سونا سالانہ نکالا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں