وہیکل فری منصوبہ،8بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ نے لگیں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ملک کے تیسرے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد کے چوک گھنٹہ گھر اور اس کے ملحقہ 8بازاروں کو وہیکل فری بنانے کا منصوبہ تاجروں کے خاتمہ کا باعث بن گیا، کرایہ دار تاجر دکانیں چھوڑنے اور کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے مالکان ”اونے پونے” داموں فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے، کاروباری وتاجر حضرات دن بھر گاہکوں کا انتظار کر کے خالی ہاتھ گھروں کو لوٹنے لگے، ضلعی حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے شہر میں پارکنگ پلازوں کی تعمیر بھی شروع نہ ہو سکی۔ تفصیل کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کمشنر فیصل آباد مریم خان اور ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر اور دیگر افسران نے بغیر ہوم ورک کئے بغیر چوک گھنٹہ گھر اور اس سے ملحقہ 8بازاروں کو وہیکل فری منصوبہ کا آغاز کر دیا اور 8بازاروں میں گاڑیوں’ موٹرسائیکلوں کا داخلہ بند کر دیا۔ تاجر برادری اور خریداری کیلئے آنیوالے شہریوں کی گاڑیوں’ موٹرسائیکلوں کی پارکنگ کیلئے کوئی بھی پارکنگ پلازہ تعمیر نہ کیا جا سکا اور کئی سالوں سے بیرون چنیوٹ بازار زیرتعمیر پارکنگ پلازہ بھی ادھورا پڑا ہے اور دیگر بھی کسی مقام پر پارکنگ پلازہ کی تعمیر کا کام شروع نہ ہو سکا۔ 8بازاروں کو وہیکل فری بنانے سے بازاروں میں گاہکوں کا داخلہ بند ہو کر رہ گیا اور خریداروں کے نہ آنے پر تاجر دن بھر گاہکوں کا انتظار کر کے خالی ہاتھ گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہو گئے’ جسکی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ گئیں، ریل بازار میں زرگر اور پیدل آنے والے گاہک عدم تحفظ کا شکار ہیں، کاروبار ٹھپ ہونے سے دکانداروں نے 8بازاروں کو چھوڑنا شروع کر دیا۔ قیام پاکستان کے وقت سے کاروبار کرنے والے بڑے بڑے تاجر بھی 8بازاروں سے نکل کر شہر کے دیگر علاقوں میں منتقل ہونا شروع ہو گئے اور لاکھوں روپے کرایہ ادا کرنے والے دکانداروں نے دکانیں چھوڑنا شروع کر دی۔ جبکہ کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے مالک دکاندار بھی اونے پونے میں اپنی کروڑوں کی جائیداد فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ حکومت 8بازاروں سے رش کم کرنے کیلئے پہلے حکمت عملی بناتی اور دکانداروں کو خریداروں کی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی پارکنگ ایریا بناتی اور ایشیا کی سب سے بڑی یارن مارکیٹ اور اس کے ساتھ ساتھ موبائل فون مارکیٹ کو شہر کے کسی دوسرے مقام پر منتقل کرتی تو شہر میں رش کم ہو سکتا تھا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ جب بازار میں کوئی گاہک نہیں آئے گا تو کاروبار کیسے ہو گا، 8بازاروں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ضلعی حکومت 8بازاروں کو وہیکل فری بنانے کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر بھی توجہ دے۔ ضلعی حکومت کی توجہ صرف اور صرف تجاوزات کے خاتمہ پر مرکوز ہے اور شہر کی ٹوٹ پھوٹی سڑکیں’ گلیاں اور بازار کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں، ان کی تعمیر ومرمت پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ تاجر برادری اور شہری دو وقت کی روٹی کے حصول کیلئے پریشان ہیں۔ کاروبار نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ شہری حلقوں کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف’ ضلعی انتظامیہ اور ارباب اختیار سے پُرزور مطالبہ ہے کہ توڑ پھوڑ کی بجائے شہر کی تعمیر وترقی اور کاروباری سرگرمیوں کو پروان چڑھانے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں