وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آگئے

اسلام آباد (بیوروچیف) آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آگئے، قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8207ارب مختص کیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق دفاع کے لیے 2550ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، حکومتی نظام چلانے کے اخراجات کے لیے 971ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پنشنز کی ادائیگی کے لیے 1055ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، سبسڈیز کی مد میں 1186ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔گرانٹس کی مد میں 1928ارب روپے رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ کے لیے ایک ہزار روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔فیڈرل گروس ریونیو کا ہدف 19298ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جبکہ صوبوں کو محاصل کی منتقلی کا تخمینہ 8206ارب روپے ہوگا، نیٹ فیڈرل ریونیو 11072ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔دریں ثنائ۔اسلام آباد (بیوروچیف) نئے بجٹ میں پراپرٹی،رئیل اسٹیٹ، تعمیراتی شعبے کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ بجٹ 2025-26کی ٹیکس تجاویزمیں پراپرٹی،ریئل اسٹیٹ سیکٹرکیلئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ہے، ایف ای ڈی ختم کرنے کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے کیا جاسکتا ہے، ایف ای ڈی ختم ہونے سے تعمیراتی شعبے میں سرگرمیاں اور ٹیکس آمدن بڑھنے کا امکان ہے۔اس کے علاوہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے وابستہ بلڈرز اور ڈویلپرز کی رجسٹرڈیشن شروع کرنیکی بھی تجویز ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے مراعات دینے کی تجویز ہے۔سمندر پارپاکستانیوں کیلئے پراپرٹی پر ایف ای ڈی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے،پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس چھوٹ کیلئے این اوسی کی شرط ختم ہونیکا امکان ہے۔پراپرٹی کی خریداری پرلیٹ اور نان فائلرز کیلئے ایکسائز ڈیوٹی میں ردوبدل کی تجویز ہے،اس کے علاوہ بجٹ میں پراپرٹی ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی ردوبدل کی تجویز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں