اسلام آباد(بیوروچیف) نئے بجٹ کی منظوری سے قبل حکومت نے 36ارب کے نئے منی بجٹ اور نان فائلز پرپابندیوں میں نرمی کی تجاویز پیش کر دیں۔ذرائع کے مطابق 36ارب کے مالی اقدامات کی تجویز ایف بی آر نے دی۔ چیئرمین ایف بی آر کے مطابق اس کا مقصد سولر پینلز میں سیلز ٹیکس میں کمی پوری اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اضافے کے لیے فنڈز کا حصول ہے۔منی بجٹ میں ایک دن کے چوزے پر 10روپے ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنا شامل ہے، اس کے لیے فیڈرل ایکسائز ایکٹ میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، نان فائلرزپر پابندیوں سے نرمی سے معیشت اور تجارت پر منفی اثرات کے خدشات دورکرنے میں مدد ملے گی۔نئے بجٹ کی منظوری سے قبل حکومت نے کل462ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے ہیں،ان میں میوچل فنڈز میں کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور سرکاری قرضوں پرسرمایہ کاری سے آمدنی پرٹیکس کی شرح بڑھانا شامل ہے۔حکومت نے نان فائلز کے لیے کار، گھر ، پلاٹ کی خریداری، سکیورٹیز میں سرمایہ کاری اور بینک اکائونٹس پر پابندی میں نرمی پر اتفاق کیا، تاہم اس کا اطلاق 70لاکھ کی گاڑی، 10کروڑ سے زائد کے کمرشل پلاٹ، 5کروڑ سے زائد کا گھر، اسٹاک مارکیٹ میں سالانہ 5کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری کرنیوالوں پر نہیں ہو گا۔سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے نئے ٹیکس اقدامات کی منظوری دیدی۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے ایک دن کے چوزے پر 5فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی حکومتی تجویز مسترد کر دی تھی۔




