نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) سائنسدانوں کو ایک بہت پرانی اور کئی دہائیوں سے بند پڑی ہوئی سیٹلائٹ سے اچانک ایک بہت طاقتور ریڈیو سگنل ملا ہے، جس نے آسمان میں موجود دوسرے تمام سگنلز کو پیچھے چھوڑ دیا۔یہ سگنل ایک ایسے سیٹلائٹ سے آیا جو ناسا نے 1964میں زمین کے گرد بھیجا تھا اور جسے Relay-2کہتے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ بہت پہلے بند ہو چکا تھا اور 1967میں اس کے تمام برقی آلات کام کرنا بند کر چکے تھے۔ لیکن گزشتہ سال جون میں آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ایک بہت چھوٹا مگر طاقتور ریڈیو سگنل پکڑا، جو صرف چند نینو سیکنڈز یعنی ایک اربویں حصے سے بھی کم وقت کے لیے چمکا۔ یہ سگنل ہماری کہکشاں کے اندر سے آیا تھا، جس پر سائنسدان حیران رہ گئے۔جب انہوں نے اس کا ماخذ معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ سگنل زمین سے بہت قریب، تقریباً 20ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر موجود Relay-2سیٹلائٹ سے آیا تھا۔ چونکہ یہ سیٹلائٹ کئی سال پہلے بند ہو چکا تھا، اس لیے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ سگنل سیٹلائٹ کے اپنے کسی کام سے نہیں بلکہ اس پر پڑنے والے بیرونی اثرات سے پیدا ہوا ہو سکتا ہے۔ممکن ہے کہ خلا میں موجود بجلی کے چارجز کا اچانک نکلنا یا خلائی ذرات کا سیٹلائٹ سے ٹکرانا اس سگنل کی وجہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل خلا میں بہت سارا بکھرا ہوا مواد اور چھوٹے سیٹلائٹ موجود ہیں جنہیں برقی چارجز سے بچانا مشکل ہوتا ہے۔ اس نئے سگنل کی دریافت سے سائنسدانوں کو خلا میں برقی چارجز کے اثرات کو سمجھنے اور ان پر نظر رکھنے کا نیا طریقہ مل سکتا ہے۔




