نیتن یاہو اسرائیل کیلئے بڑا خطرہ

تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک) صیہونی میڈیا نے نیتن یاہو کو اسرائیل کیلئے بڑا خطرہ قرار دے دیا۔صیہونی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو اسرائیل کیلئے ایران سے بڑا خطرہ ہے، نیتن یاہو روزانہ اہداف بدل رہے ہیں، اسرائیل کو علم نہیں کہ اس کی سمت کیا ہے۔اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور جوہری پروگرام کے دوہرے خطرات دور کرنے کا ہدف مکمل کرنے کے بہت قریب ہے، مقاصد پورے ہونے پر لڑائی رک جائے گی۔انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اسرائیل کو طویل مدتی اور آہستہ آہستہ ہونے والی جنگ کا شکار نہیں بننے دیں گے لیکن یہ بھی کہا کہ وہ ایران کی مہم پیش از وقت ختم نہیں کریں گے۔انہوں نے اسرائیلی نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم اپنے اقدامات ضروری حد سے آگے نہیں بڑھائیں گے لیکن ہم بہت جلد بھی ختم نہیں کر دیں گے، جب مقاصد حاصل ہو جائیں گے، تو کارروائی مکمل ہو جائے گی اور لڑائی رک جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی شک نہیں کہ یہ ایک ایسی حکومت ہے جو ہمیں ختم کرنا چاہتی ہے اور اسی وجہ سے ہم نے اپنے وجود کو لاحق دو ٹھوس خطرات کے خاتمے کے لیے اس آپریشن کا آغاز کیا، ہم اپنے اہداف جوہری خطرہ اور بیلسٹک میزائل کا خطرہ ختم کرنے کی طرف قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں، ہم ان کی تکمیل کے بہت قریب ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کے فردو جوہری مقام کو راتوں رات امریکی بنکر بسٹر بموں سے بہت نقصان پہنچا لیکن نقصان کی حد دیکھنا باقی ہے۔ایران کے 60فیصد افزودہ یورینیم کے بارے میں سوال پر نیتن یاہو نے کہا کہ ہم اس پر بہت قریب سے نگاہ رکھے ہوئے ہیں، میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ یہ جوہری پروگرام کا ایک اہم جز ہے، یہ واحد اور کافی جز نہیں لیکن یہ اہم ہے اور ہمارے پاس اس پر دلچسپ معلومات ہیں۔انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کو شدید خطرناک قرار دے دیا۔رافیل گروسی کا کہنا تھا کہ جوہری تنصیبات پر حملے سرحدوں سے باہر بھی تابکاری پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔سربراہ آئی اے ای اے نے کہا کہ فوجی کشیدگی سے گریز اور سفارتی راستے اپنانے کی ضرورت ہے، اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو جو تباہی پھیلے گی اس کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے مذاکرات ہی واحد پائیدار حل ہیں، ایران کا فوری دورہ کرنے کو تیار ہوں، اختلافات کے باوجود تعاون جاری رہنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں