سائنسدانوں کا کمال’رائس پیپر سے روبوٹ بنا لیا

لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک )سائنس دانوں نے چاولوں کے کاغذ سے روبوٹ بنا لیا۔محققین کے مطابق اس پیش رفت کے بعد سپرنگ رولز میں استعمال ہونے والا رائس پیپر نرمی اور مضبوطی کے لحاظ سے سلیکون کا متبادل بن سکتا ہے۔ برسٹل یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ویتنامی سپرنگ رولز میں استعمال ہونے والے چاول کے کاغذ سے روبوٹ تیار کیے ہیں (برسٹل یونیورسٹی)سائنس دانوں نے رائس پیپر (چاول سے بنے کاغذ)سے روبوٹ بنانے کا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے بعد روبوٹکس کے شعبے میں نئی راہیں کھل گئی ہیں۔برسٹل یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے دریافت کیا کہ ویتنامی سپرنگ رولز میں استعمال ہونے والا جزو (یعنی چاول کا کاغذ) نرمی اور مضبوطی کے لحاظ سے سلیکون کا متبادل بن سکتا ہے جو عام طور پر سافٹ روبوٹس میں استعمال ہوتا ہے۔چاول کے کاغذ کی ایک اور اہم خوبی یہ ہے کہ یہ نہ صرف ماحول میں خود بخود تحلیل ہو جاتا ہے بلکہ یہ زہریلا بھی نہیں ہوتا اور اسے کھایا جا سکتا ہے۔برسٹل یونیورسٹی کے فیکلٹی آف سائنس اینڈ انجینیئرنگ سے تعلق رکھنے والی کرسٹین براگانزا نے کہا ہماری تحقیق نے لوگوں کے لیے ممکن بنایا ہے کہ وہ ماحول دوست طریقے سے، گھر بیٹھے سافٹ روبوٹس بنانے کے تجربات کر سکیں اور نئی چیزیں ایجاد کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا یہ تحقیق سائنس دانوں کو پروٹوٹائپ بنانے کا ایک نیا اور آسان طریقہ دیتی ہے، ساتھ ہی یہ ٹیکنالوجی زراعت اور درخت لگانے جیسے کاموں میں مدد دے سکتی ہے، خاص طور پر ان جگہوں پر جہاں انسانوں کا پہنچنا مشکل ہو۔ٹیم نے ابتدائی استعمال میں کھانے پکانے کے شعبے کا بھی ذکر کیا اور اب ان کی امید ہے کہ وہ اس مواد سے ایسا روبوٹ تیار کریں گے جو خود بخود حرکت کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں