ایک اور زیر حراست ملزم ”اپنے ساتھیوں”کی گولیوں کا نشانہ بن گیا

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) چک جھمرہ کے علاقہ برنالہ کے قریب مبینہ پولیس مقابلہ میں تہرے قتل سمیت ریکارڈیافتہ زیرحراست ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر مارا گیا جبکہ چھڑوانے کیلئے اسکے ساتھی پولیس پارٹی پر فائرنگ کر کے رات کی تاریکی میں فرار ہو گئے، پولیس کی جانب سے ہتھکڑی لگی نعش تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر کے فرار ہونیوالے اسکے ساتھیوں کی تلاش کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق انچارج انوسٹی گیشن چک جھمرہ سب انسپکٹر توقیر اختر نے عید کے روز الصبح 161 نپالکہ میں قربانی کے جانور فروخت کر کے واپس آنے والے مخالفین باپ بیٹا سمیت 3افراد کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم حسین عرف پنوں کو گرفتار کر لیا اور اسلحہ برآمدگی کے بعد سرکاری گاڑی پر واپس تھانہ آ رہے تھے کہ جب وہ برنالہ کے قریب ڈنڈاپل جھنگ برانچ نہر کے قریب پہنچے تو دو موٹرسائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر کے ساتھی زیرحراست ملزم حسین عرف پنوں کو چھڑوا کر فرار ہو گئے، پولیس پارٹی نے وائرلیس پر اطلاع کرتے ہوئے ملزمان کا تعاقب کیا۔ پولیس مقابلہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او’ ڈولفن اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور کافی دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، فائرنگ کا سلسلہ بند ہونے پر پولیس پارٹی نے دیکھا تو زیرحراست ملزم حسین عرف پنوں اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر مارا گیا۔ جبکہ اس کے ساتھی پولیس پارٹی پر فائرنگ کرتے رات کی تاریکی میں فرار ہو گئے، پولیس نے زیرحراست ملزم حسین عرف پنوں کی ہتھکڑی لگی نعش کو تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر کے اسکے فرار ہونیوالے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے کر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق مارے جانیوالے ملزم نے چک جھمرہ کے علاقہ 161 رب نپالکہ میں صبح سویرے قربانی کے جانور فروخت کرنے کے بعد گائوں پہنچنے والے محمد خان اسکے بیٹے تقی عباس اور بھائی ناصر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ مارا جانے والا زیرحراست ملزم 24 سے زائد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں