بابو سر میں200سیاحوں کو بچا لیا گیا’ لاپتہ کی تلاش جاری

گلگت (نامہ نگار) پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کی حکومت نے کہا ہے کہ ضلع دیامر میں شاہراہِ تھک بابوسر میں200سے زیادہ سیاحوں کو ریسکیو اہلکاروں اور مقامی لوگوں کی مدد سے بچا لیا گیا ہے جبکہ لاپتہ سیاحوں کی تلاش جاری ہے۔ایک بیان میں گلگت بلتستان کی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا ہے کہ 100سے زائد سیاحوں کو تھک بابوسر کے لوگوں نے اپنے گھروں میں پناہ دی۔200 سے زیادہ سیاحوں کو ریسکیو کر کے چلاس پہنچا دیا گیا ہے جہاں سے ان کے اپنے گھروں سے رابطے بحال ہوئے ہیں۔ضلع دیامر میں شدید سیلابی ریلوں کے نتیجے میں سیاحوں کی متعدد گاڑیاں بہہ گئی ہیں، تین سیاحوں کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں جبکہ 15 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔ضلع دیامر میں مواصلاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے سیاحوں کو اپنے عزیزوں سے رابطے میں مشکل کا سامنا ہے۔فیض اللہ فراق کے مطابق چلاس شہر کے تمام ہوٹلز اور گیسٹ ہاسز مسافروں اور سیاحوں کے لیے مفت کھول دیے گئے ہیں۔ گذشتہ شب تاریکی کی وجہ سے ریسکیو اہلکاروں کو سرچ آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مقامی میڈیا چلاس کے ڈپٹی کمشنر عطاالرحمان کے حوالے سے رپورٹ کر رہا ہے کہ تقریباً 10سے 15کلومیٹر سڑک سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہے۔رات گئے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بابو سر ٹاپ میں کلاڈ برسٹ، شدید لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈنگ کے باعث متعدد مقامات پر سڑک بند ہے۔بابو سر ٹاپ جل سے دیونگ میں کلاڈ برسٹ کے وجہ شدید لینڈ سلائیڈنگ و فلیش فلڈنگ سے 14سے 15مقامات پر روڈ بلاک ہے۔مقامی انتظامیہ نے سیلابی ریلے میں پھنسے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا تاہم، شاہراہ قراقرم لال پہاڑی اور تتھا پانی کے مقامات اب بھی بند ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق بحالی اور ریسکیو آپریشن کے لیے مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور سڑک کی بحالی اور ملبے میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔تاہم، بھاری ملبے کے باعث کچھ علاقے ناقابل رسائی ہیں۔ این ڈی ایم اے نے سیاحوں کو پہاڑی علاقوں کی جانب سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ پاکستان میں مزید سیلاب آنے کا خدشہ ہے کیونکہ بارشوں کا نیا سلسلہ 25 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔پنجاب میں سب سے زیادہ 135 اموات ہوئی ہیں، اس کے بعد خیبر پختونخوا میں 46، سندھ میں 22، بلوچستان میں 16، اور اسلام آباد اور پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر میں ایک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں