9 مئی’PTIرہنمائوں کو سزائیں

لاہور، سرگودھا (بیوروچیف) لاہور اور سرگودھا کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9مئی کے پر تشدد احتجاج، جلاو گھیراو، سمیت دیگر سنگین مقدمات میں پی ٹی آئی رہنمائوں یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چوہدری، سرفراز چیمہ، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد بھچرسمیت 44ملزمان کو 10,10 سال قید کی سزا سنا دی، جبکہ شاہ محمود قریشی، حمزہ عظیم سمیت 6 ملزمان کو بری کر دیا، احمد خان بھچر کو 10سال قید کیساتھ مختلف دفعات کے تحت 60 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم بھی سنایا گیا، عدالتی فیصلے کے بعد پولیس مجرمان کی گرفتاری کیلئے متحرک ہوگئی۔ پاکستان تحریک انصاف نے انسداد دہشت گردی عدالتوںکا فیصلہ اعلی عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ 9مئی واقعات کی مذمت کی، چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا عدلیہ کے متنازع فیصلوں میں ایک نئے فیصلے کا اضافہ ہوا،سلمان اکرم راجہ نے کہا یہ پی ٹی آئی رہنمائوں کو نہیں جمہوریت کو سزا ہوئی، بابر اعوان نے کہافیصلہ سیاسی دباو کا نتیجہ ہے، ملک احمد بھچر نے کا کہنا ہے کہ عدالت نے سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمے کا آئین سے ہٹ کر فیصلہ دیا، سزا کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرینگے، جبکہ وزیر مملکت برائے برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ سرگودھا کی عدالت کے فیصلے سے آئین اور قانون کا بول بالا ہوا، وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ایک سیاسی کارکن ہونے کے ناطے اس بات پر خوشی کا اظہار نہیں کرسکتا کہ تاہم نو مئی ایک حقیقت ہے فسانہ نہیں۔ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی شیرپاو پل پر جلاو گھیراو کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کوٹ لکھپت جیل میں ٹرائل مکمل ہونے پر تھانہ سرور روڈ کے مقدمہ نمبر 97/23 کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ پراسکیوشن کے 61گواہان نے ملزمان کیخلاف شہادت ریکارڈ کرائی، سرکار کی جانب سے پراسیکیوٹر عبد الجبار ڈوگر نے دلائل دیئے۔ عدالت نے مجموعی طور پر 14 ملزمان کا ٹرائل مکمل کیا جس میں سے 8 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا کا حکم سنایا گیا اور 6 ملزمان کو مقدمہ سے بری کیا گیا۔ عدالت نے تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ، سینیٹر اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید، خالد قیوم ،ریاض حسین ،علی حسن ،افضال عظیم پاہٹ کو 10، 10 سال قید کی سزا کا حکم سنایا۔ عدالت نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، زباس مان، افتخار احمد، رانا تنویر، حمزہ عظیم پاہٹ اور اعزاز رفیق کو بری کر دیا۔ واضح رہے کہ لاہور کے تھانہ سرور روڈ پولیس نے 9 مئی شہر پاو پل پر جلاو گھیراو کے واقعات کا دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج نے جیل میں ٹرائل مکمل کیا اور جیل میں قائم عدالت میں تمام ملزمان کی موجودگی مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ دوسری جانب سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 9 مئی میانوالی میں ہنگامہ آرائی ، توڑ پھوڑ اور تھانے کو نذر آتش کرنے کا 100 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ، عدالت نے مقدمہ کے 36 مجرمان کو دس دس سال قید کی سزا کا حکم سنایا، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر کو 10 سال قید کی سزا کیساتھ مختلف دفعات کے تحت 60 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم بھی سنایا گیا۔ انسداد دہشت گردی سرگودھا کی خصوصی عدالت کے جج محمد نعیم شیخ کے دستخطوں سے 100 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا ، فیصلے میں عدالت نے احمد خان بھچر ، احمد چھٹہ سمیت 36 ملزمان کو تھانہ موسی خیل میانوالی کے مقدمہ میں الزامات ثابت ہونے پر سزا کا حکم سنایا ، عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ عدالتی فیصلے کے بعد سزا پانے والے تمام مجرمان کو گرفتار کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق میانوالی پولیس عدالتی فیصلے کے بعد مجرمان کی گرفتاری کے لئے متحرک ہوگئی۔ اس سے قبل عدالت نے ہی مجرمان کو حاضری سے استثنی دے رکھا تھا ، انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت 9 مئی میانوالی کے دیگر 5 مقدمات کی سماعت جاری رکھے ہوئے ہیں ان مقدمات میں قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان ، احمد خان بھچر ، صنم جاوید ، عالیہ حمزہ سمیت 300سے زائد کارکن ملوث ہیں جن پر عدالت پہلے ہی فرد جرم عائد کرچکی ہے۔ دریں اثنا چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے ملک کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہیں جس سے جمہوریت کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔عوام کا عدالتوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے، آج کے فیصلوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عدالتیں ناکام ہوگئی ہیں۔ گزشتہ روز خیبر پختونخوا ہاوس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ 9مئی کے واقعات کی مذمت کی ہے اور آئین کے مطابق فیئر ٹرائل کا حق مانگا ہے مگر عدالتی فیصلے یکطرفہ اور غیر منصفانہ ہیں۔ کئی رہنمائوں کو بغیر ٹھوس ثبوت کے دس دس سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں جس سے عوام کا عدالتوں پر اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مقدمات میں پیش کئے گئے گواہان کی شہادتیں ناقابل قبول اور جھوٹی ہیں ۔ سینئر قانون دان اور پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے فیصلوں کو سیاسی دباو کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے مقدمات میں مجرموں کو سزا نہیں دی جا رہی جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو دہشت گرد قرار دے کر سزائیں دی جا رہی ہیں۔ عالیہ حمزہ نے کہا کہ ظلم اور ناانصافی کا نظام کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ عوام اپنے لیڈروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے تمام کارکنوں کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ان سزاوں کو اعلی عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں