پنجاب میں بدترین سیلابی صورتحال برقرار

لاہور (بیوروچیف) بھارت کے پانی چھوڑے جانے کے بعد پنجاب بھر میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل پروونشل ڈیساسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان کاٹھیا نے کہا ہے کہ بھارت نے بغیر پیشگی اطلاع دریائے چناب میں پانی چھوڑا، جس سے سطح خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق بھارت نے سلال ڈیم، ننگل ڈیم اور ہریکے بیراج سے مزید پانی چھوڑا ہے، جس کے بعد سلال ڈیم سے دریائے چناب میں پانی کا بڑا ریلہ آسکتا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ دریائے چناب اور ستلج میں مزید پانی آنے سے گنڈا سنگھ والا، وزیر آباد، حافظ آباد اور سیالکوٹ میں مزید نقصانات کا خدشہ ہے۔ دو روز میں بڑا سیلابی ریلا ہیڈ مرالہ پہنچ سکتا ہے۔ ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے پنجاب نے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ دریائے چناب میں جھنگ کے مقام پرتباہ کاریاں جاری ہیں۔ تریموں بیراج پر پانی کابہا تیز ہو نے سے اخراج 4 لاکھ 79 ہزار کیوسک ریکارڈ کیاگیا ، جس سے سینکڑوں آبادیاں زیرِ آب آگئیں،جھنگ میں دریائے چناب میں طغیانی کے باعث لنک روڈز اور ہائی ویز شدید متاثر ہے۔ سرگودھا روڈ، پکے والا بائی پاس اور پیرکوٹ مسن روڈ پانی میں ڈوب گئے۔۔محکمہ ہائی وے نے بحالی کیلئے ہیوی مشینری بھجوا دی گئی۔ رینالہ خورد کے قریب دریائے راوی میں اونچے درجے کے سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی ، درجنوں دیہات زیر آب آنے سے ٹھٹھہ کھچی، ٹھٹھہ چاکر سمیت کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، بارش کے باعث سیلاب متاثرین کی مشکلات مزید بڑھ گئیں،، کسانوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں جانوروں کے لیے چارہ نایاب ہوگیاہے،، سیلاب متاثرین کو ضلعی انتظامیہ کی طرف سے فلڈ ریلیف کیمپس میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ خانیوال کے علاقے ہیڈ سدھنائی باگڑ سرگانہ اور فاضل شاہ کے مقام پر دریائے راوی اور چناب میں سیلابی پانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور سیلاب سے متاثرہ ہزاروں افراد کو ریسکیو کر کے ریلیف کیمپوں میں پہنچایا جا رہا ہے۔ دریائے ستلج کی غضب ناک لہریں بورے والا کی حدود میں تباہی مچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیلاب کے نتیجے میں ایک لاکھ 90 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ اس وقت بورے والا سے گزر رہا ہے، جو ہر طرف تباہی کی علامت بن چکا ہے۔ سیلاب سے بچائو کے لیے بنائے گئے متعدد بند ٹوٹ چکے ہیں، جس کی وجہ سے سیلابی پانی ساہوکا تک پہنچ چکا ہے۔ ہزاروں ایکٹر پر کاشت کی گئی فصلیں، بشمول کپاس، دھان، مکئی اور تل، مکمل طور پر دریا برد ہو گئی ہیں۔قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ ستمبر کو 13 لاکھ کیوسک کا ریلا سندھ پہنچے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ہم نے سپر فلڈ سے نمٹنے کی تیاری کرلی ہے۔ پہلی ترجیح عوام اور مال مویشیوں کو محفوظ بنانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں