سوشل میڈیا کا غلط استعمال ‘356مقدمات درج

اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی ریاست مخالف مہمات کیخلاف کریک ڈائون تیز کر دیا ہے، جس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، این سی سی آئی اے اب تک پاکستان بھر میں ریاست مخالف پروپیگنڈہ کے الزام میں 356 ایف آئی آر درج کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ 789 انکوائریاں بھی شروع کی گئی ہیں تاکہ ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے والا مواد پوسٹ کرنے میں ملوث افراد کیخلاف تحقیقات کی جا سکے۔ حالیہ معرکہ حق مہم کے دوران، جب سوشل میڈیا پر فوج مخالف پوسٹس نمایاں ہوئیں، این سی سی آئی اے نے 52 مقدمات درج کیے جن میں ان ملوث افراد پر مسلح افواج کیخلاف مواد پھیلانے کا الزام ہے۔ حکام کے مطابق، ایجنسی نے 9 مئی 2025 کے واقعے کی تفتیش میں پولیس کی معاونت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا، جس میں مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے تنقید کو منظم کیا گیا تھا۔ مشتبہ افراد کے ڈیجیٹل ریکارڈ اور پرانی پوسٹس کا تجزیہ کر کے ایسے شواہد اکٹھے کیے گئے جن کی بنیاد پر لاہور، سرگودھا اور میانوالی میں کئی ملزمان کو سزا سنائی گئی۔ آن لائن پلیٹ فارمز کا غلط استعمال روکنے کیلئے متعدد مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں (جے آئی ٹیز) تشکیل دی گئی ہیں۔ این سی سی آئی اے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ نقصان دہ مواد کو بروقت ہٹایا جا سکے، جبکہ اس نوعیت کے سوشل میڈیا اکائونٹس بلاک کرنے کیلئے باقاعدگی سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھیجے جاتے ہیں۔ ایجنسی کا اوپن سورس انٹیلی جنس یونٹ (او ایس آئی این ٹی) سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے تاکہ ریاست مخالف پروپیگنڈہ کے نئے رجحانات کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ غلط معلومات پھیلنے سے پہلے ہی روکی جا سکیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی اور ریاستی اداروں کو دن بہ دن ڈیجیٹل میدان میں پھیلنے والی گمراہ کن مہمات سے مربوط انداز سے بچانے کیلئے ناگزیر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں