اسرائیل کاغزہ پر بڑا حملہ،طیاروں سے بمباری

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فوج نے غزہ شہر میں آپریشن کا آغاز کردیا۔ عرب میڈیا کے مطابق کئی ہفتوں سے جاری فضائی بمباری اور اونچی عمارتیں تباہ کرنے کے بعد اسرائیلی فوج بلآخر ٹینکوں کے ساتھ غزہ شہر کے وسط میں داخل ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی طیاروں سے بمباری بھی جاری ہے اور غزہ شہر کے وسط میں زمینی کارروائی بھی جاری ہے جب کہ ہزاروں لوگوں غزہ شہر سے دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی کررہے ہیں۔دوسری جانب گزشتہ 24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں سے 3صحافیوں سمیت مزید 60فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ گزشتہ روز اسکولوں اور کلینک سمیت 16عمارتیں تباہ کی گئیں۔ ادھر اسرائیل کے دورے پر موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ شہر میں آپریشن شروع کردیا ہے اور اب معاہدے ہمارے پاس معاہدے کے لیے صرف چند دنوں یا ہفتوں کا وقت رہ گیا ہے۔ دریں اثناء ۔غزہ(مانیٹرنگ ڈیسک) نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں قحط نہ ہونے کا پروپیگنڈا کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق، اسرائیل نے اس سلسلے میں اپنی سرکاری اشتہاری ایجنسی کا استعمال کرتے ہوئے یورپ اور شمالی امریکہ میں رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان مہمات میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ غزہ کی صورتحال معمول کے مطابق ہے، حالانکہ حقیقت میں وہاں قحط اور انسانی المیہ جاری تھا۔دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک روز میں مزید 60فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں 6سالہ جڑواں بچے اور 3 صحافی بھی شامل ہیں۔ اکتوبر 2023سے اب تک اسرائیلی فوج کے حملوں میں 64ہزار 871فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 64ہزار 610زخمی ہو چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں