راشن لیجاتے4افراد سیلابی پانی میںڈوب گئے

بہاولنگر(نامہ نگار) دریائے ستلج میں بہاولنگر کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب آگیا، فصلیں تباہ ہو گئیں زمینی رابطے منقطع ہو گئے۔دریائی بیلٹ میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری رہیں، موضع کوٹ لنگاہ، توگیرہ اور دیگر علاقوں کے رابطے منقطع ہوگئے، دریائے سندھ میں کنڈیارو کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب آگیا، کچے کے قدیمی گاں بکھری کو بچانے کیلئے بنایا گیا بند توڑ دیا گیا۔کچے کے علاقوں میں تل، کپاس اور جوار کی فصلیں تباہ ہوگئیں، 50 سے زائد دیہات ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، پانی کی آمد 4 لاکھ 26 ہزار 847 کیوسک ریکارڈ کی گئی، دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر پانی کی آمد میں مزید اضافہ ہوگیا۔بیراج پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار رہی، گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران 9 ہزار کیوسک کا اضافہ ہوا، سکھر بیراج پر پانی کے بہا میں 62 ہزار کیوسک کمی آگئی، سیلاب سے شجاع آباد کی بستی ماڑا میں خوفناک تباہی ہوئی، متاثرین تاحال گھروں میں آباد نہیں ہو سکے۔علی پور میں 7 متاثرین سیلابی پانی میں ڈوب کر دم توڑ گئے، موضع پکا نائچ میں سیلابی پانی سے بھرے گڑھے میں ڈوب کر 3 افراد چل بسے، بستی کارچ کے 3 رہائشی راشن لیکر واپسی پر ریلے کی نذر ہوگئے۔دریں اثناء ۔علی پور (نامہ نگار) علی پور میں راشن لے جاتے ہوئے افسوسناک حادثہ پیش آگیا، 4افراد سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو عملہ کے مطابق 4افراد راشن لے کر واپس گھر جاتے ہوئے سیلابی پانی میں ڈوب کر دم توڑ گئے، بستی کارچ اور دیگر علاقوں میں پیش آئے الگ الگ حادثات میں چار اموات ہوئیں۔ تین ماموں بھانجا ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے ڈوبے، جن کی شناخت نادر، رستم، حافظ بابر کے نام سے ہوئی، 15سالہ کاشف گبول کھانا لے جاتے ہوئے سیلابی پانی میں بہہ کر جاں بحق ہوا۔ ریسکیو ٹیموں نے آپریشن کے بعد تمام لاشیں برآمد کر لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں